سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو شفافیت سے مکمل کیا جائے

لاہور (نمائندہ خصوصی) فائونڈرز گروپ کے سرگرم رکن، پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈ اور سابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ نقصان میں جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو شفافیت کے ساتھ برق رفتاری سے مکمل کیا جائے۔
نجکاری کے شفاف عمل کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ نجکاری کا بنیادی مقصد صرف ریاستی اثاثوں کی فروخت نہیں بلکہ اداروں کی کارکردگی میں بہتری، جدید انتظامی نظام کا فروغ، سرمایہ کاری میں اضافہ اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی ہونا چاہیے۔ اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ تمام مراحل میں شفافیت، احتساب اور مساوی مواقع کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ قومی معیشت کی بہتری کے لیے ایسے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا فروغ
خادم حسین نے تجویز پیش کی کہ نجکاری کے ساتھ ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو قومی پالیسی کا اہم حصہ بنایا جائے۔ انفراسٹرکچر، توانائی، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا سکتے ہیں، جس سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس ضمن میں بزنس طبقے کے ساتھ مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
کاروبار دوست پالیسیوں کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے بشرطیکہ حکومت کاروبار دوست پالیسیوں، سرمایہ کاروں کے تحفظ، آسان ریگولیٹری نظام اور طویل المدتی معاشی استحکام کو یقینی بنائے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو قومی مفاد، شفافیت اور مشاورت کے اصولوں کے تحت آگے بڑھاتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو بھرپور فروغ دے گی، تاکہ پاکستان میں پائیدار اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور عوامی فلاح کے اہداف موثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔ اسی طرح پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ جیسے عوامل کا اثر معیشت پر پڑتا ہے، جس کے تدارک کے لیے نجی شعبے کی شمولیت ایک بہتر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
