اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا علاقائی صورتحال پر رابطہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر تفصیلی گفتگو کی، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال، بحیرۂ احمر اور باب المندب میں رونما ہونے والی حالیہ پیش رفت سمیت فلسطین کی سنگین صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
خطے کی بدلتی صورتحال پر مشاورت
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان اس ٹیلیفونک رابطے میں خطے میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت اور بین الاقوامی سطح پر درپیش اہم چیلنجوں کا جامع جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے بحیرۂ احمر اور باب المندب کی صورتحال پر خصوصی توجہ مرکوز کی، کیونکہ یہ سمندری راستے بین الاقوامی تجارت، بحری نقل و حمل اور توانائی کی ترسیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں، اور ان علاقوں میں کسی بھی قسم کا عدم استحکام براہ راست عالمی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ جس طرح سعودی فالکن وژن گروپ کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے، اسی طرح دونوں برادر ممالک اقتصادی و سفارتی سطح پر قریبی رابطے میں ہیں۔
فلسطین اور اسلامی ممالک کا کردار
گفتگو کے دوران فلسطین، بالخصوص مشرقی یروشلم میں جاری سنگین صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس دوران فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات اور خطے میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس تناظر میں، دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی صورتحال پر غور و خوض کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اردن کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور اسے موجودہ حالات میں انتہائی بروقت اقدام قرار دیا۔ اس سے قبل بھی پاکستان نے یوسف رضا گیلانی کا جنوبی کوریا سے بائیوٹیکنالوجی و آئی ٹی تعاون پر زور دینے جیسے اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر اپنے کردار کو فعال رکھا ہے۔
تعلقات کا فروغ اور مستقبل کا لائحہ عمل
دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان مشاورت اور رابطوں کو مزید مستحکم اور مؤثر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ گفتگو کے اختتام پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ نے مستقبل میں بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا عہد کیا تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پیش آنے والے اہم معاملات پر مسلسل مشاورت جاری رہ سکے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لیے حکومتی فیصلوں کا خیر مقدم کیا گیا ہے، اور اسی طرح سفارتی محاذ پر بھی پاکستان اپنے برادر ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ رابطہ دونوں ممالک کے مابین قائم دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کا تسلسل ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال عالمی اور اسلامی دنیا میں مرکزِ نگاہ بنی ہوئی ہے۔
