وزیر خزانہ کی زیر صدارت ادویات کی قیمتوں سے متعلق کمیٹی اجلاس

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگ زیب کی زیر صدارت ادویات کی قیمتوں کے تعین کے امور پر کابینہ کی خصوصی کمیٹی کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈرگ پرائسنگ کمیٹی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے پالیسی بورڈ کی جانب سے پیش کردہ سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ادویات کی قیمتوں کا تعین اور پالیسی سفارشات
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈریپ کی جانب سے ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ کی بنیاد پر موصول ہونے والی درخواستوں، قیمتوں سے متعلق دیگر تکنیکی معاملات اور ملک بھر میں ضروری ادویات کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں کمیٹی کو گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا اور اہم امور پر غور و خوض کے لیے نئی تجاویز پیش کی گئیں۔
شفافیت اور عوامی مفاد کو ترجیح
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگ زیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق تمام تر فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی اور ایک جامع مشاورتی عمل کے تحت کیے جائیں، جس میں عوامی مفاد کو ہر صورت اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کا عوام کو سستی گندم کی فراہمی یقینی بنانے کا فیصلہ کی طرح ادویات کے شعبے میں بھی متوازن حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ضروری ادویات تک مریضوں کی رسائی کو یقینی بنانا، ادویہ سازی کے شعبے میں سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنا اور عوام کی قوتِ خرید کے پیش نظر ادویات کی استطاعت کے درمیان توازن رکھنا ناگزیر ہے۔
عوامی اعتماد کا فروغ
سینیٹر محمد اورنگ زیب نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اہم ادویات کی قیمتوں سے متعلق حکومتی فیصلوں کی وجوہات اور موقف کو عوام تک انتہائی موثر اور واضح انداز میں پہنچایا جائے تاکہ اس پورے عمل میں شفافیت کو فروغ ملے اور شہریوں کا نظام پر اعتماد بحال رہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنا حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا کے علاوہ سیکرٹری قومی صحت محمد اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ، اور وزارت تجارت و خزانہ کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔
