مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,919 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,919
قومی

صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت کا مرکز پاکستان کیلئے انقلابی قدم

📅 جمعرات، 23 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ صنعت، جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان مضبوط روابط حکومت کی اولین ترجیح ہے اور پاکستان کو جدید صنعت اور مصنوعی ذہانت کے عالمی نظام سے ہم آہنگ کرنا حکومت کا عزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت کا مرکز پاکستان کی صنعتی ترقی میں انقلابی کردار ادا کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اسلام آباد میں ایک مفاہمتی یادداشت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس اہم موقع پر پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن، نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور این ای ڈی یونیورسٹی کے درمیان صنعتی جدت و مصنوعی ذہانت کے مرکز کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

صنعتی ترقی کیلئے حکومتی عزم

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ قومی صنعتی پالیسی کے تحت صنعت، جامعات اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافے پر تعریف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت ملک میں جدید صنعت اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان کا پہلا صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت کا مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ مرکز جدید صنعت، مصنوعی ذہانت اور تحقیق کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا جس سے صنعتی پیداوار، معیار اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔

نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع

ہارون اختر خان نے کہا کہ صنعت اور جامعات کے درمیان مضبوط اشتراک ہی جدید معیشت کی بنیاد ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کا ملک بھر میں صحت سہولیات کیلئے نئے پروگرام کا اعلان بھی ملک میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی جدت کا یہ مرکز نوجوان انجینئرز، محققین اور صنعتکاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا اور یہ منصوبہ صنعت، تحقیق اور تعلیم کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔

عالمی مسابقت اور صنعتی برآمدات

معاون خصوصی نے کہا کہ یہ مرکز پاکستان کو جدید صنعتی ٹیکنالوجی اور سہ جہتی تیاری کے عالمی نظام میں موثر مقام دلانے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال قومی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بنے گا، جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی چینی کمپنی فیمسن کے وفد سے ملاقات میں بھی صنعتی تعاون پر زور دیا گیا تھا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جدید صنعت ہی مضبوط معیشت اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہے اور حکومت صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور تحقیق کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

ٹیگز: #پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن #صنعتی ترقی #مصنوعی ذہانت #نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی #ہارون اختر خان
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں