جسٹ فونٹین کے 13 گول، فٹ بال ورلڈ کپ کا ناقابل شکست ریکارڈ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ فٹ بال کی تاریخ میں بے شمار ریکارڈ قائم ہوئے اور وقت کے ساتھ کئی ریکارڈ ٹوٹ بھی گئے، مگر 1958 کے فیفا ورلڈ کپ میں فرانس کے عظیم اسٹرائیکر جسٹ فونٹین کی جانب سے ایک ہی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں کیے گئے 13 گول آج بھی تاریخ کا ایک ناقابلِ شکست کارنامہ سمجھے جاتے ہیں۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود دنیا کے بڑے بڑے فٹ بالرز، جن میں پیلے، میراڈونا، رونالڈو، میسی اور ایمباپے جیسے نام شامل ہیں، اس ریکارڈ کو نہیں توڑ سکے۔ بنگلہ دیش میں ریت پر کدو کی کامیاب کاشت سے زرعی انقلاب جیسے حیران کن واقعات کی طرح، جسٹ فونٹین کی یہ تاریخی کامیابی بھی ایک غیر متوقع موقع اور واقعات کے سلسلے کے بعد ممکن ہوئی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1958 کے ورلڈ کپ سے قبل فرانس کی قومی ٹیم کے مرکزی اسٹرائیکر رینے بلیارڈ تھے، جبکہ جسٹ فونٹین کو متبادل کھلاڑی کے طور پر اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم ٹورنامنٹ سے قبل ایک تربیتی سیشن کے دوران رینے بلیارڈ زخمی ہو گئے اور ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے۔ اس صورتحال کے بعد کوچنگ اسٹاف نے جسٹ فونٹین کو ابتدائی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا، جو بعد میں فٹ بال کی تاریخ کا ایک یادگار فیصلہ ثابت ہوا۔
ادھار کے جوتے اور تاریخ سازی
ورلڈ کپ کے دوران فونٹین کو ایک اور غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ پریکٹس کے دوران ان کے فٹ بال بوٹس خراب ہو گئے اور اس وقت متبادل جوتوں کا انتظام آسان نہیں تھا۔ ایسے میں ان کے ساتھی کھلاڑی اسٹیفن بروی نے اپنے بوٹس انہیں استعمال کرنے کے لیے دے دیے۔ بعد ازاں جسٹ فونٹین نے ایک انٹرویو میں مسکراتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے پورے ورلڈ کپ میں اپنے تمام 13 گول انہی ادھار لیے گئے جوتوں میں کیے۔ یورپ میں بغیر گیس کے چلنے والے ایئر کنڈیشنر کی آزمائش جیسی جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی فونٹین کے اس کارنامے کی اہمیت برقرار ہے۔ سویڈن میں کھیلے گئے اس ورلڈ کپ میں جسٹ فونٹین نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر میچ میں گول اسکور کیا۔ انہوں نے پیراگوئے کے خلاف تین، یوگوسلاویہ کے خلاف دو، اسکاٹ لینڈ کے خلاف ایک، کوارٹر فائنل میں شمالی آئرلینڈ کے خلاف دو، سیمی فائنل میں برازیل کے خلاف ایک اور تیسری پوزیشن کے میچ میں مغربی جرمنی کے خلاف چار گول کیے۔ اس طرح صرف چھ میچوں میں ان کے مجموعی گولوں کی تعداد 13 ہو گئی، جو آج بھی ایک ہی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا عالمی ریکارڈ ہے۔
محنت اور موقع کا حسین امتزاج
کھیل کے ماہرین کے مطابق جسٹ فونٹین کی یہ کامیابی صرف انفرادی صلاحیت کا نتیجہ نہیں بلکہ محنت، موقع سے فائدہ اٹھانے اور غیر معمولی خود اعتمادی کی بہترین مثال بھی ہے۔ وہ ایک ایسے کھلاڑی تھے جنہوں نے متبادل حیثیت سے آغاز کیا لیکن اپنی کارکردگی سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کر لی۔ جس طرح وزیراعظم شہباز شریف کا قطر کا دورہ، امیرِ قطر سے تعزیت جیسے اہم سرکاری معاملات کی اہمیت اپنی جگہ ہے، اسی طرح کھیلوں کی دنیا میں جسٹ فونٹین جیسے کھلاڑیوں کا ورثہ بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ بال کے مؤرخین کا کہنا ہے کہ جسٹ فونٹین کا ریکارڈ اس لیے بھی منفرد ہے کیونکہ جدید دور میں ورلڈ کپ کے فارمیٹ، مضبوط دفاعی حکمت عملی اور سخت مقابلے کے باعث کسی ایک کھلاڑی کے لیے ایک ہی ٹورنامنٹ میں 13 گول کرنا انتہائی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ آج بھی جب ورلڈ کپ کی تاریخ کے عظیم ترین انفرادی کارناموں کا ذکر ہوتا ہے تو جسٹ فونٹین کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ ان کی کہانی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات ایک غیر متوقع موقع، دوسروں کا تعاون اور اپنی صلاحیت پر اعتماد انسان کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔
