یورپ میں بغیر گیس کے چلنے والے ایئر کنڈیشنر کی آزمائش
برسلز (نمائندہ خصوصی)۔ یورپ میں ایسی جدید ایئر کنڈیشننگ ٹیکنالوجی کی آزمائش شروع کر دی گئی ہے جو روایتی ریفریجرنٹ گیس کے بغیر ٹھنڈک فراہم کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی تجارتی پیمانے پر کامیاب ثابت ہوئی تو یہ ایئر کنڈیشننگ کی صنعت میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک سپاٹ (TechSpot) کے مطابق یہ نظام سالڈ اسٹیٹ کولنگ (Solid-State Cooling) ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ ماحول دوست ٹیکنالوجی کے اثرات اس میں روایتی کمپریسر اور ماحول پر منفی اثرات ڈالنے والی ریفریجرنٹ گیسوں کے بجائے جدید دھاتی مواد اور ان کی حرارتی خصوصیات سے ٹھنڈک پیدا کی جاتی ہے، جس سے گیس کے اخراج یا لیک ہونے کا خطرہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحول دوست کولنگ سسٹمز کو فروغ دینے کے لیے اس نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان نے خواتین سے متعلق نویں او آئی سی کانفرنس کی صدارت سنبھالی، جبکہ اسی طرح کی عالمی کاوشوں کے تسلسل میں، مختلف تحقیقی ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اس کے عملی تجربات میں مصروف ہیں تاکہ اسے مستقبل میں عام استعمال کے قابل بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے سے پہلے مزید تحقیق اور آزمائش کی ضرورت ہوگی۔ مستقبل کے امکانات اور توانائی کی بچت اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں گھروں، دفاتر، اسپتالوں اور دیگر عمارتوں میں ایسے ایئر کنڈیشنرز استعمال کیے جا سکیں گے جنہیں روایتی ریفریجرنٹ گیس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جیسے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور چین کے درمیان تعلیمی شراکت داری کی طرح، یہ تکنیکی تعاون بھی ماحولیاتی بہتری کا باعث بنے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت اور ایئر کنڈیشنرز کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر یہ نئی ٹیکنالوجی توانائی کے مؤثر استعمال، ماحول کے تحفظ اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایسی پیشرفت پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہو سکتی ہے۔
