پاکستان کارپٹ ایسوسی ایشن کا خام اون کی برآمد پر پابندی کا مطالبہ

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی سی ایم ای اے) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چیف کلکٹر اور کلکٹر کسٹمز سے ملاقات کی، جس میں ہاتھ سے بنے قالینوں کے برآمد کنندگان کو درپیش اہم مسائل، بالخصوص برآمدی کلیئرنس میں حائل رکاوٹوں اور بعض ڈیوٹیز کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
خام اون کی برآمد پر پابندی کا مطالبہ
اس وفد میں پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک، چیئرمین میاں عتیق الرحمن، وائس چیئرمین ریاض احمد، چیئرپرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن اور سینئر رکن سعید خان شامل تھے۔ وفد نے کسٹمز حکام کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملک سے خام اون کی برآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کی جانی چاہیے تاکہ مقامی قالین سازی کی صنعت کو معیاری خام مال کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے، جس سے ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے۔ جس طرح واشک کے علاقے ماشکیل میں دہشت گردوں کا حملہ، 5 مزدور شہید ہوئے، اسی طرح معاشی استحکام کے لیے صنعتوں کو تحفظ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کسٹمز حکام کا تعاون کی یقین دہانی
کسٹمز حکام نے وفد کے خدشات کو غور سے سنا اور انہیں یقین دلایا کہ جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مستقبل میں کسٹمز اور ایسوسی ایشن کے مابین باہمی تعاون اور روابط کو مزید مستحکم رکھا جائے گا۔
42ویں عالمی نمائش کے لیے فنڈز کا اجرا
دریں اثنا، ایسوسی ایشن کے ایک ہنگامی اجلاس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ رواں سال اکتوبر میں منعقد ہونے والی 42ویں عالمی نمائش کی تیاریوں کے لیے حکومتی فنڈز تاحال جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ چیئرمین میاں عتیق الرحمن اور وائس چیئرمین ریاض احمد نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نمائش کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ پاکستان کی قالینوں کی برآمدات کے فروغ کے اس اہم موقع سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایسی نمائشوں کا انعقاد ناگزیر ہے، بالکل اسی طرح جیسے ملک کے دیگر حصوں میں ترقیاتی منصوبے اہمیت رکھتے ہیں، جس کے تحت سید عمران احمد شاہ نے ساہیوال میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کر دیا ہے۔ مزید برآں، حکومت کو چاہیے کہ ملکی برآمدی شعبے کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق فاٹا اور پاٹا کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے: امیر مقام کے مطالبے پر بھی مثبت غور کرے۔
