مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,791 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,791
قومی

پیغامِ پاکستان سیمینار: علماء کا دہشت گردی کی مذمت، قومی اتحاد پر زور

📅 جمعرات، 09 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

پشاور۔9جولائی (اے پی پی):تمام مکاتب فکر کے مذہبی علماءاور مشائخ نے جمعرات کو ملک کے امن، استحکام اور قومی یکجہتی کے تحفظ کے لیے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انتہاپسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے پیغامِ پاکستان ضابطہ اخلاق کے تحت مشترکہ طور پر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔پشاور میں پاکستان علمائ کونسل (پی یو سی) کے زیر اہتمام منعقدہ پیغامِ پاکستان علماء و مشائخ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ، پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے اور محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے موثر کردار کو سراہا، جس کی کوششیں انسانی حقوق کے فروغ کے لیے بھی کی جا رہی ہیں۔

پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا سید محمد یوسف شاہ، مولانا طیب قریشی، مولانا مفتی ظفر احمد، مولانا شیخ عنایت اللہ، مولانا ڈاکٹر شمس الرحمٰن شمس، وفاق کے سینئر نائب صدر مولانا معراج الدین، مولانا محمد شعیب، مولانا قاری روح اللہ اور دیگر ممتاز علماءنے اس بات کا اعلان کیا کہ تمام مکاتب فکر اسلام کی سربلندی، پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور خوشحالی کے لیے متحد ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر قومی عزم اور اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

دہشت گردی کی مذمت اور بیرونی سازشیں

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص کے بعد پاکستان دشمن قوتوں نے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سرگرم فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سمیت دہشت گرد گروہ اسرائیل کی ملی بھگت سے بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں۔بلوچستان میں حالیہ دنوں میں پولیس اہلکاروں اور فوجی جوانوں کی شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی قربانیاں قومی عزم اور اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بننی چاہیئیں۔ انہوں نے تمام مکاتب فکر اور معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پر زور دیا کہ وہ اسلام اور پاکستان کے دفاع کے لیے متحد ہو جائیں۔

افغان سرزمین کا استعمال اور علماء پر حملے

علماءنے کہا کہ افغانستان ایک برادر ملک ہے، تاہم پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین کا استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں اور نہ ہی اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔مذہبی علماء پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممتاز علماءکو برسوں سے اسلام، امن اور قومی مفادات کی بات کرنے کی پاداش میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے اور پاکستان دشمن قوتوں کی سازشوں کے باوجود ملک مزید مضبوط ہو کر ابھرے گا۔

عالمی سطح پر پاکستان کا مقام اور امن و استحکام

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کا مقام نمایاں طور پر مستحکم ہوا ہے اور ملک علاقائی و عالمی امن کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام سمیت مختلف ممالک اور بین الاقوامی شراکت دار پاکستان پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، اس لیے اندرونی تقسیم پیدا کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے قومی اتحاد کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔سیمینار کے شرکاءنے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی سلامتی، امن کے قیام اور ملک کے استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے تمام مکاتب فکر کے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے عقائد اور مذہبی حساسیت کا احترام کریں۔ "اپنا مسلک چھوڑو نہیں، دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں” کے اصول کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باہمی احترام ہی امن کے قیام کی بنیاد ہے، اور خبردار کیا کہ پیغامِ پاکستان ضابطہ ¿ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔علمائ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام میں جہاد ایک عظیم فریضہ ہے، تاہم بے گناہ انسانوں کا قتل کسی صورت جہاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات فساد کے زمرے میں آتے ہیں، اور دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کے قیام اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ریاست کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

ٹیگز: #بلوچستان حملے #پیغام پاکستان #دہشت گردی #علماء کونسل #قومی اتحاد
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں