اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے لیے 99 سالہ لیز پر زمین دی

تل ابیب (02 جولائی 2026): اسرائیلیبربریت پر خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر مفاد پرستی، بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں
امریکا اور اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں مستقل امریکی سفارت خانے کی تعمیر کے لیے ایک اہم معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے تحت اسرائیل نے مغربی یروشلم میں واقع اراضی امریکا کو صرف ایک امریکی ڈالر کی علامتی رقم کے عوض 99 سال کے لیے لیز پر فراہم کر دی ہے۔
معاہدے کی تفصیلات
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے پر اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے دستخط کیے۔ دستخطی تقریب اسرائیلیوزارت خارجہ میں منعقد ہوئی، جہاں دونوں حکام نے اسے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک تعلقات کی ایک اور علامت قرار دیا۔
امریکی مؤقف
اس موقع پر امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ امریکا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے اور نئے سفارتی کمپلیکس کی تعمیر دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی۔ ان کے مطابق تعمیر ہونے والا جدید سفارت خانہ اسرائیل میں امریکی سفارتی اور قونصلر سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہوگا۔
پس منظر اور فلسطینی ردعمل
یہ پیش رفت 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے متنازع فیصلے کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے۔ نیا سفارتی کمپلیکس مکمل ہونے کے بعد امریکا کے مختلف سفارتی دفاتر ایک ہی مستقل مقام پر منتقل کر دیے جائیں گے۔
فلسطینی قیادت نے اس پیش رفت کو اپنے قومی مؤقف اور دو ریاستی حل کے لیے ایک اور سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے اور شہر کی حتمی حیثیت کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور اسرائیل-فلسطین مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔
سیاسی تجزیہ
سیاسی مبصرین کے مطابق ایک ڈالر میں 99 سالہ لیز کا یہ معاہدہ محض ایک علامتی انتظام نہیں بلکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان یروشلم کے معاملے پر مشترکہ سیاسی مؤقف کا واضح اظہار بھی ہے۔ اس فیصلے کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی بڑھنے اور عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
