مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,576 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,576
قومی

ایران جنگ: ٹرمپ اور محمد بن سلمان کے درمیان اختلافات، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

📅 جمعرات، 02 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ایران جنگ: ٹرمپ اور محمد بن سلمان کے درمیان اختلافات، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن/ریاض: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم معاملات پر کشیدگی دیکھنے میں آئی۔

امریکی فوجی منصوبے پر سعودی عرب کا انکار

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے پروجیکٹ فریڈم کے نام سے ایک فوجی منصوبہ تیار کیا، تاہم سعودی عرب نے امریکی فوج کو اپنی فضائی حدود اور عسکری سہولیات استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد واشنگٹن اور ریاض کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہوگئے۔

اعلیٰ امریکی حکام کی کوششیں ناکام

نیویارک ٹائمز کے مطابق اس معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان مسلسل کئی مرتبہ ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سعودی قیادت کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم محمد بن سلمان اپنے فیصلے پر قائم رہے۔

سعودی عرب کا ایران کے ردعمل کا خدشہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی قیادت کو خدشہ تھا کہ اگر اس نے امریکی کارروائیوں میں براہ راست سہولت فراہم کی تو ایران دوبارہ سعودی عرب کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس لیے ریاض نے جنگ کے مزید پھیلاؤ سے بچنے کو ترجیح دی۔

محمد بن سلمان کی حکمت عملی میں تبدیلی

نیویارک ٹائمز کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں محمد بن سلمان نے ایران کے خلاف سخت کارروائی کی حمایت کی تھی، تاہم بعد ازاں جب جنگ کے علاقائی اثرات بڑھنے لگے تو سعودی عرب نے جنگ بندی اور سفارتی حل کی حمایت شروع کر دی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی حکام نے اس تاثر کی تردید کی کہ ولی عہد نے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔

سعودی عرب کی متوازن حکمت عملی

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران سعودی عرب نے ایک متوازن حکمت عملی اختیار کی۔ ایک جانب اس نے امریکہ کے ساتھ رابطے برقرار رکھے جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی سفارتی روابط جاری رکھے تاکہ ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔

ایران سے براہ راست مذاکرات

نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی عرب اب ایران کے ساتھ براہ راست ان معاملات پر بات چیت کر رہا ہے جنہیں وہ اپنی قومی سلامتی کے لیے زیادہ اہم سمجھتا ہے، جن میں آبنائے ہرمز، ایران کا میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہ شامل ہیں۔

خودمختار خارجہ پالیسی اور اعتماد میں کمی

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ خودمختار بنایا ہے اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ دو ہزار انیس میں سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد امریکی ردعمل نے بھی ریاض کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے بعد سعودی عرب نے اپنی سلامتی کے لیے متبادل سفارتی راستوں پر زیادہ توجہ دینا شروع کی۔

اختلافات کے باوجود تعاون جاری

رپورٹ کے مطابق اختلافات کے باوجود امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم ایران جنگ نے دونوں قریبی اتحادیوں کے درمیان موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ۔

ٹیگز: #امریکہ #ایران جنگ #ٹرمپ #سعودی عرب #محمد بن سلمان #نیویارک ٹائمز
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں