کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

حضرت شداد بن ہاد سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کا متبع بن گیا ، پھر وہ کہنے لگا : میں تو آپ کے ساتھ مہاجر بن کر رہوں گا ۔ نبی ﷺ نے اپنے ایک صحابی کو اس ( کے قیام و طعام ) کا خیال رکھنے کو کہا ، پھر ایک جنگ ہوئی تو نبی ﷺ کو غنیمت میں قیدی ملے ۔ آپ نے انھیں تقسیم کیا تو اس اعرابی کا حصہ بھی رکھا اور اس کے ساتھیوں کو دے دیا ۔ وہ ان کے سواری کے اونٹ چرایا کرتا تھا ۔ جب وہ چرا کر واپس آیا تو انھوں نے اس کا حصہ اسے دیا ۔ اس نے کہا : یہ کیا ہے ؟ ساتھیوں نے کہا : نبی ﷺ نے تجھے ( غنیمت سے ) حصہ دیا ہے ۔ اس نے اپنا حصہ لیا اور اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا : یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’ میں نے تجھے تیرا حصہ دیا ہے ۔‘‘ وہ کہنے لگا : میں اس کی خاطر تو آپ کا پیروکار نہیں بنا تھا میں تو آپ کا پیروکار ، اس لیے بنا ہوں کہ مجھے یہاں تیر لگے ، اور اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ، اور میں مر کر جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ آپ نے فرمایا :’’ اگر تو یہ بات سچے دل سے کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ تیری خواہش پوری فرمائے گا ۔‘‘ تھوڑے عرصے کے بعد وہ ( صحابہ ) پھر دشمن سے لڑائی کے لیے گئے تو اسے نبی ﷺ کے پاس اس حال میں اٹھا کر لایا گیا کہ اسے اسی جگہ تیر لگا ہوا تھا جہاں اس نے اشارہ کیا تھا ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا یہ وہی اعرابی ہے ؟ ‘‘ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا :’’ اس نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی ، اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش پوری فرما دی ۔‘‘ پھر نبی ﷺ نے اسے اپنی قمیص میں کفن دیا ، پھر اسے آگے رکھا اور اس پر نماز پڑھی ۔ آپ کی دعا کے یہ الفاظ ظاہر ہوئے :’’ اے اللہ ! یہ تیرا ( سچا ) بندہ ہے ۔ تیرے راستے میں ہجرت کرتے ہوئے گھر سے نکلا اور شہید ہو گیا ۔ میں ان باتوں کا عینی گواہ ہوں ۔‘‘
Sunan Nasai#1955
Status: صحیح
