سعودی عرب: 11 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن ملک بدر، سہولت کاروں کیلئے سخت وارننگ

ریاض (نمائندہ خصوصی)۔ سعودی عرب میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف جاری ملک گیر مہم کے دوران کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 11 ہزار 297 غیر قانونی تارکینِ وطن کو مملکت سے بدر کر دیا گیا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، 18 سے 24 جون 2026 کے دوران کی جانے والی ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 15 ہزار 231 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں اقامہ قوانین کی خلاف ورزی پر 7 ہزار 589، سرحدی قوانین کی خلاف ورزی پر 4 ہزار 443 اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب 3 ہزار 199 افراد شامل ہیں۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق، گرفتار افراد میں سے 15 ہزار 109 کو سفری دستاویزات کے حصول کے لیے ان کے متعلقہ سفارتی مشنز کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ 3 ہزار 618 افراد کی اپنے ممالک واپسی کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں اور مزید 16 ہزار 369 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔
سرحدی خلاف ورزی اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسی مدت کے دوران سعودی عرب میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 1 ہزار 763 افراد کو بھی سرحدوں پر گرفتار کیا گیا، جن میں تقریباً 55 فیصد ایتھوپیا، 44 فیصد یمن اور ایک فیصد دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔ جبکہ 53 افراد کو مملکت سے غیر قانونی طور پر فرار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑا گیا۔
اس کے علاوہ، غیر قانونی تارکینِ وطن کو پناہ، ملازمت یا نقل و حمل کی سہولیات فراہم کرنے کے الزام میں 22 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ نے اس حوالے سے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو کسی بھی قسم کی رہائش، ملازمت یا ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والے سہولت کاروں کو 15 سال تک قید، 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ اور جرم میں استعمال ہونے والی گاڑی یا جائیداد کی ضبطی جیسی سنگین سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام نے تمام شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امیگریشن قوانین کی پاسداری کریں اور کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔
