محمد اسحاق ڈار کی داتا گنج بخش کے 983ویں عرس کی تقریبات میں شرکت، ثالثی کردار کا ذکر

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے 983ویں سالانہ عرس کی تقریبات کا آغاز جمعرات کے روز مزار کو غسل کی تقریب سے ہوا۔ اس پرمسرت موقع پر مہمان خصوصی نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار نے مزار پر حاضری دی، عرق گلاب سے غسل دیا اور روایتی طور پر چادر پوشی کی۔
غسل کی تقریب میں صوبائی وزرا بلال یاسین، خواجہ سلمان رفیق اور معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب علی ڈار نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے علمائے کرام، مشائخ عظام اور زائرین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ معروف نعت خوانوں نے بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت کے نذرانے پیش کیے۔
تقریب کے بعد نائب وزیراعظم کا میڈیا سے گفتگو
تقریب کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف، قائد مسلم لیگ (ن) محمد نوازشریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے پوری قوم کو داتا صاحب کے 983ویں سالانہ عرس کی دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے داتا دربار کی توسیع کے منصوبے کا سہرا وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کی ٹیم کے سر باندھا اور اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔
امریکا ایران جنگ میں پاکستان کا ثالثی کردار
اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سینتالیس سال بعد ایران اور امریکا مذاکرات کی میز پر بیٹھے، اور پاکستان نے اس معاملے میں بطور سہولت کار کے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بطور سہولت کار، پاکستان کی ترجیح تشہیر کے بجائے بامقصد کوششیں کرنا تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد اسے باقاعدہ طور پر قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جب پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کی تو کچھ حلقوں کی جانب سے مذاکرات کسی دوسرے ملک میں منعقد کروانے کا مشورہ دیا گیا تھا، کیونکہ پاکستان پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ سب کو اسلام آباد میمورنڈم پر خوش ہونا چاہئے۔
جی-7 میٹنگ اور ایران-امریکا معاہدہ
محمد اسحاق ڈار نے 18 جون کو جی-7 کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کرنے کا مشورہ دیا تھا، جس کے بعد وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بھی ایران-امریکا معاہدے پر دستخط کئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، جسے پہلے سفارتی طور پر تنہا سمجھا جاتا تھا، اب دنیا کو حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ کون سفارتی طور پر تنہا ہوا ہے۔
پاکستان کی ایٹمی قوت سے معاشی قوت بننے کی جستجو
نائب وزیراعظم نے 28 فروری کو ایران پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایٹمی قوت بنایا ہے اور اب وقت ہے کہ اسے معاشی قوت بھی بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان امن پسند ہے لیکن اپنا دفاع کرنا بھی جانتا ہے۔
انہوں نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمیں ورثہ میں ایک خراب معاشی صورتحال ملی تھی، تاہم اسے بہتر بنانے میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
بجٹ میں ریلیف کی فراہمی
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ موجودہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ سمیت تاجر برادری کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا گیا ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
