قومی اسمبلی نے 2026 کا مالیاتی بل منظور کر لیا، اپوزیشن کی تجاویز مسترد

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ قومی اسمبلی نے 27-2026 کے مالیاتی بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت حکومت کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم کو قبول کر لیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی کٹوتی کی تحاریک کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ یہ منظوری منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران دی گئی۔
مالیاتی بل 27-2026 کی پیشکش اور منظوری
وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالیاتی بل 27-2026 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات کی رپورٹ کردہ صورت میں ایوان میں پیش کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی منظوری ملنے پر انہوں نے بل ایوان میں پیش کر دیا۔ اس کے بعد، ایوان نے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی کٹوتی کی تحاریک کو مسترد کرنے کے بعد بل کی شق وار منظوری دے دی۔
اپوزیشن کے تحفظات اور تجاویز
کٹوتی کی تحاریک پر بحث کے دوران، اپوزیشن کے اراکین نے بل کے مختلف پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا اور تجاویز پیش کیں۔ عالیہ کامران نے اس بات پر زور دیا کہ مالیاتی بل کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے اور انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا اس بل کو حتمی شکل دینے سے قبل تاجروں، تنخواہ دار طبقہ، چھوٹے کاروبار، ٹیکس ماہرین اور سول سوسائٹی سے مشاورت کی گئی ہے۔ انہوں نے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی حد 50 روپے، کاربن لیوی کی شرح ڈھائی روپے، ٹیلی فون کارڈز پر کٹوتی کی شرح میں کمی، ہوائی ٹکٹوں پر ایف ای ڈی کی شرح میں کمی اور سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد رکھنے کی تجویز دی۔
رانا عاطف نے گردشی قرضہ کے 2800 ارب روپے کے حجم اور ڈسکوز کے بڑھتے ہوئے نقصانات کی نشاندہی کی۔ محمد مبین عارف نے فیس لیس سینٹر کے نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق صرف ٹیکس اہلکار کی شناخت خفیہ رکھی گئی ہے، ٹیکس دہندہ کی نہیں۔ انہوں نے کم سے کم 5.5 فیصد ٹیکس ودہولڈنگ اور ٹیکسوں کے حوالے سے بڑھا دی گئی پنالٹی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
نعیمہ کشور خان نے ہزار سی سی گاڑیوں پر ٹیکس میں 4 ہزار سے 20 ہزار تک اضافے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور بلٹ پروف گاڑیوں پر 18 فیصد ٹیکس کے خاتمے کی بھی وکالت کی۔ انہوں نے گھریلو استعمال کی اشیاء، پلاسٹک مصنوعات، ٹرنکس، ہائیجین کی اشیاء اور سٹیشنری پر ٹیکس نہ بڑھانے کی اپیل کی۔
عمیر نیازی نے بجٹ پر اٹھائے گئے تکنیکی نکات کے بجائے سیاسی موقف اختیار کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسامہ میلہ نے ٹیکس کے ڈھانچے کو درست قرار دیتے ہوئے ان کمپنیوں کو ٹیکس استثنا دینے پر سوال اٹھایا جو منافع کما رہی ہیں، جبکہ بچوں کے دودھ اور سولر پینلز پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے فیس لیس سینٹر کے فیصلوں کے خلاف اپیل نہ ہو سکنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
شاہدہ اختر علی نے مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو مدنظر رکھ کر متوازن بجٹ بنانے کا مشورہ دیا اور 1800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے ٹوکن ٹیکس کی موجودہ سطح برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی کی کامیابی کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام پر زور دیا۔
شیر علی ارباب نے فیڈرل ایکسائز لسٹ میں خامیوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ ٹیکس شرح بڑھانے سے محصولات میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ کارکردگی میں بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔ شاندانہ گلزار نے سولر پینلز اور انرجی پر ٹیکس میں اضافے پر تشویش ظاہر کی اور طبی آلات و بنیادی اشیاء خوراک پر ٹیکس کم کرنے کا مشورہ دیا۔
ڈاکٹر نثار نے کسانوں کے استحصال کے خاتمے اور آزادانہ سکروٹنی کمیٹی میں تاجر برادری کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا، اور سپرٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا کہا۔ داوڑ کنڈی نے کسٹمز ایکٹ کے تحت سکروٹنی کمیٹی میں تاجروں کے نمائندے کی شمولیت اور لائف انشورنس پر میچورٹی سے قبل ٹیکس لگانے کی تجویز کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
ریاض فتیانہ نے قرضوں کے بوجھ میں اضافہ نہ کرنے، غربت کے خاتمے کے اقدامات اور فوڈ ٹیکس ختم کرنے کا کہا۔ انجینئر حمید حسین نے دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات اور گلگت بلتستان کے لیے فنڈز کی مستقل فراہمی کا مطالبہ کیا۔ بیرسٹر گوہر خان نے ٹرائل کے دوران اثاثہ جات کو فریز کرنے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا اور فیس لیس آڈٹ سینٹر کو قانونی اور آئینی طور پر غیر پائیدار قرار دیا۔
شہرام خان ترکئی نے ٹیکسوں کے ساتھ جرمانوں کی شرح میں اضافہ اور کاروبار کے لیے ریلیف نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسد قیصر نے سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے استثنا کی مدت میں اضافہ اور افغانستان کے ساتھ تجارت بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ عامر ڈوگر نے نجکاری کے بعد تمام ایئرلائنز کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز دی۔
