امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی ثالثی میں اہم مذاکرات کل ہونگے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے اہم مذاکرات کل 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برجن اسٹاک (Bürgenstock) میں منعقد ہوں گے۔ یہ مذاکرات اسلام آباد میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ (MoU) کے تحت پیش رفت کا حصہ ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات اس تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تسلسل میں ہو رہے ہیں جو فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے طے پایا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے نمائندے شریک ہوں گے جبکہ پاکستان اور قطر بطور ثالث اپنا کردار ادا کریں گے۔ دونوں ممالک کی شمولیت اس اعتماد کی عکاس ہے جو فریقین نے ثالثی عمل پر ظاہر کیا ہے۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اس پورے عمل کو سہولت فراہم کرنے کے اپنے کردار کو جاری رکھے گا تاکہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت طے شدہ سمجھوتوں پر عمل درآمد کو آگے بڑھایا جا سکے اور فریقین کے درمیان تعمیری مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔
سفارتی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں مزید اعلیٰ سطحی رابطوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر برجن اسٹاک کا انتخاب اس عمل کی غیر جانبداری اور سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں اسلام آباد مفاہمت نامے کے تکنیکی پہلوؤں، اعتماد سازی کے اقدامات اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
پاکستان کی جانب سے ثالثی کے کردار کو عالمی سطح پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو اس کے خطے اور عالمی سیاست پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
ان مذاکرات کے نتائج پر عالمی برادری کی گہری نظر ہوگی کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی اور سیاسی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
