ایران امریکہ معاہدہ: شہباز شریف کے دستخط پاکستان کا سفارتی کردار اجاگر کر گئے

اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ (MoU) کے دستخطی صفحے کی تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایرانی اور امریکی قیادت کے دستخطوں کے ساتھ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے دستخط بھی بطور ثالث نمایاں طور پر موجود ہیں۔
وائرل ہونے والی تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ دستاویز پر اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے مجاز نمائندوں نے دستخط کیے، جبکہ پاکستان نے ثالث اور ضامن کے کردار میں اس معاہدے کی توثیق کی۔ دستخطی صفحے میں وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط ’’Mediator‘‘ یعنی ثالث کے عنوان کے تحت درج ہیں۔
بین الاقوامی سفارتی حلقوں کے مطابق یہ تصویر پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی کی ایک علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین، تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین کی جانب سے اس دستاویز کو خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے کی عالمی اہمیت
تصویر میں موجود متن کے مطابق معاہدے کی حتمی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی قرارداد کے ذریعے دی جائے گی، جس سے اس معاہدے کی بین الاقوامی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے کشیدہ تعلقات رکھنے والے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی مفاہمتی دستاویز پر پاکستان کا بطور ثالث دستخط کرنا ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق اس عمل نے نہ صرف پاکستان کی عالمی سفارتی ساکھ کو مضبوط کیا ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اسلام آباد کے کردار کو بھی اجاگر کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر لاکھوں صارفین اس تصویر کو شیئر کر رہے ہیں۔ متعدد صارفین نے اسے ’’پاکستانی سفارت کاری کا تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ اور بین الاقوامی تنازعات کے حل میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر مزید پذیرائی مل سکتی ہے۔
