وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، تاریخی معاہدے پر گفتگو

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ تیس منٹ سے زائد جاری رہنے والی اس گفتگو میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط کے بعد کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پزشکیان، ایرانی قیادت اور برادر عوامِ ایران کو اس تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ایرانی قوم کی تعمیرِ نو اور پاکستان و ایران کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بھی بنے گا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی اپنے پرتپاک احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے امن معاہدے پر دستخط کے ایرانی فیصلے کو سراہتے ہوئے مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے ایرانی قیادت کی کامیابی کی دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ہر شعبے میں ایران کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر کا پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنی اور ایرانی قوم کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں شخصیات نے انتہائی مہارت، اخلاص اور دانشمندی کے ساتھ ثالثی کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا، جسے ایران ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث معاہدے پر دستخط کر کے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے عزم کو ثابت کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان کی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران ہمیشہ یاد رکھے گا۔ صدر پزشکیان نے پاکستانی عوام کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں، بشمول تجارت، توانائی اور عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جس کی تفصیلات معروف بین الاقوامی نشریاتی اداروں پر بھی موجود ہیں۔
گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد از جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کے دورے کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ اور علاقائی امور میں موجودہ بہترین تعاون کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے آئندہ دنوں میں بھی مسلسل رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے پر عالمی سطح پر بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جیسا کہ بحرینی وزیر خارجہ نے بھی پاکستان کو مبارکباد پیش کی ہے۔
