مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,429 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,429
تازہ ترین

15 ارب کے اشتہارات، مگر صحافیوں کے گھروں میں فاقے کیوں؟

📅 جمعرات، 11 جون 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 5 منٹ
khalid
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تحریر: محمد خالد

پاکستان میں صحافت ہمیشہ ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جہاں لوگوں نے سچ کی خاطر جیلیں کاٹیں، دھمکیاں برداشت کیں، تشدد سہا اور بعض نے اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کیا۔ لیکن آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام کی آواز بننے والے صحافی خود بے آواز ہو چکے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا کہ گزشتہ تین برسوں میں میڈیا کو 15 ارب روپے کے سرکاری اشتہارات دیے گئے۔ یہ سن کر ہر صحافی کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ اگر میڈیا اداروں کو اربوں روپے مل رہے تھے تو پھر ہزاروں صحافی، کیمرہ مین، سب ایڈیٹرز، گرافک ڈیزائنرز، پروف ریڈرز اور دیگر میڈیا ورکرز بے روزگار کیوں ہوئے؟

آج پاکستان کا میڈیا ورکر شاید اپنی زندگی کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ کئی ایسے صحافی ہیں جنہوں نے اپنی جوانی نیوز رومز میں گزار دی، راتیں جاگ کر اخبارات اور بلیٹن تیار کیے، مگر جب عمر کے اس حصے میں پہنچے جہاں انہیں تحفظ ملنا چاہیے تھا، انہیں ایک فون کال یا ایک ای میل کے ذریعے نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

کسی کے بچوں کی فیس رک گئی، کسی کے گھر کا کرایہ ادا نہ ہو سکا، کسی کی والدہ کے علاج کے پیسے نہ رہے اور کسی کے چولہے کی آگ ٹھنڈی ہو گئی۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی دردناک داستان ہے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک طرف میڈیا مالکان مالی بحران کا رونا روتے رہے جبکہ دوسری طرف اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات وصول کرتے رہے۔ اگر واقعی حالات اتنے خراب تھے تو سوال یہ ہے کہ ان اربوں روپے کا فائدہ اداروں کے اصل کارکنوں تک کیوں نہیں پہنچا؟ صحافیوں کی تنخواہیں کیوں روکی گئیں؟ ملازمین کو فارغ کیوں کیا گیا؟ اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر تو وسیع ہوتے گئے لیکن نیوز رومز خالی کیوں ہوتے گئے؟

ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اخبارات کی سرکولیشن میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ کئی اخبارات جو کبھی لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتے تھے، آج ان کی اشاعت اس کا ایک چھوٹا سا حصہ رہ گئی ہے۔ اگر سرکولیشن کم ہوئی ہے تو کیا اشتہارات کے نرخ اور کوٹے بھی اسی تناسب سے کم ہوئے؟ اگر نہیں، تو پھر عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم آخر کس بنیاد پر تقسیم کی جا رہی ہے؟

یہ معاملہ صرف مالی بے ضابطگی کا نہیں بلکہ ایک پورے شعبے کی تباہی کا معاملہ ہے۔ جب صحافی معاشی طور پر کمزور ہوگا تو وہ طاقتور کے سامنے سچ کیسے بولے گا؟ جب ایک رپورٹر اپنے بچوں کی فیس اور گھر کے اخراجات کی فکر میں مبتلا ہوگا تو وہ عوام کے مسائل کے لیے کیسے لڑے گا؟

وقت آ گیا ہے کہ سرکاری اشتہارات کی تقسیم، اے بی سی سرٹیفکیشن، میڈیا ہاؤسز کے مالی ریکارڈ اور ملازمین کی تعداد کا مکمل فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ 15 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے، کس کو ملے اور ان سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو کیا فائدہ پہنچا؟

صحافت صرف عمارتوں، مشینوں اور مالکان کا نام نہیں۔ صحافت ان گمنام کارکنوں کا نام ہے جو شدید گرمی، سردی، بارش اور خطرات کے باوجود عوام تک سچ پہنچاتے ہیں۔ اگر یہی لوگ بے روزگار، پریشان اور مایوس ہو جائیں تو پھر میڈیا کی چمکتی عمارتیں بھی محض خالی ڈھانچے بن جاتی ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ صرف اشتہارات کی رقم گنوائی جائے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان صحافیوں کے آنسوؤں کا حساب بھی لیا جائے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس پیشے کے نام کر دیں اور بدلے میں بے روزگاری، معاشی عدم تحفظ اور مایوسی حاصل کی۔

یہ 15 ارب روپے کا سوال نہیں، بلکہ ہزاروں صحافی خاندانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

ٹیگز: #jounalist #media #pakistan
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں