کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان کی نمبر ون یونیورسٹی قرار
کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان کی نمبر ون یونیورسٹی قرار، عالمی درجہ بندی میں بھی نمایاں مقام
اسلام آباد: پاکستان کی معروف تعلیمی درسگاہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے مرکز برائے عالمی یونیورسٹی درجہ بندی (CWUR) کی جانب سے جاری کردہ 2026 کی عالمی رینکنگ میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ یونیورسٹی کو پاکستان بھر کی جامعات میں پہلی پوزیشن پر فائز کیا گیا ہے، جو ملک کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
عالمی سطح پر کامسیٹس کی غیر معمولی کارکردگی
کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے عالمی سطح پر بھی اپنی اہلیت کا لوہا منوایا ہے۔ عالمی درجہ بندی میں یونیورسٹی نے 635 واں مقام حاصل کیا، جس کا مجموعی اسکور 73.1 رہا۔ تحقیق کے شعبے میں یونیورسٹی کی کارکردگی خاص طور پر نمایاں رہی، جہاں اس نے 605 واں عالمی مقام حاصل کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ، کامسیٹس دنیا بھر میں درجہ بند 21,291 تعلیمی اداروں میں سرفہرست تین فیصد میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔ CWUR کی عالمی دو ہزار کی فہرست میں شمولیت اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد تمام درجہ بند اداروں کے سرفہرست 9.4 فیصد میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔
پاکستان کی دیگر نمایاں جامعات
عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی دیگر نمایاں جامعات بھی شامل ہیں، جو ملک کے تعلیمی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان میں قائداعظم یونیورسٹی عالمی سطح پر 793 ویں پوزیشن پر، آغا خان یونیورسٹی 1017 ویں، پنجاب یونیورسٹی 1084 ویں اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) 1092 ویں عالمی مقام پر رہی ہیں۔ یہ درجہ بندیاں پاکستانی جامعات کی عالمی مقابلے میں پوزیشن کو ظاہر کرتی ہیں۔
CWUR درجہ بندی کا معیار
مرکز برائے عالمی یونیورسٹی درجہ بندی (CWUR) کا نظام ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور معتبر جائزہ ہے جو اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو چار بنیادی اور اہم شعبوں کی بنیاد پر پرکھتا ہے۔ ان شعبوں میں تعلیم کا معیار، فارغ التحصیل طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع، اساتذہ کی اہلیت اور معیار، اور تحقیق کی سطح شامل ہیں۔ یہ جامع نظام ہر سال عالمی دو ہزار کی فہرست میں شامل اداروں کو ان کی بہترین کارکردگی پر اسناد اور اعزازی نشانات سے نوازتا ہے۔
ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی کا پیغام
اس شاندار اعزاز پر اظہار خیال کرتے ہوئے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے کہا، "یہ درجہ بندی ہمارے اساتذہ، محققین، طلبہ، عملے اور فارغ التحصیل افراد کی انتھک محنت اور غیر متزلزل لگن کا ثمر ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کا ہدف صرف موجودہ کامیابیوں پر اکتفا کرنا نہیں بلکہ مستقبل پر گہری نظر رکھنا ہے۔ ریکٹر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ تمام شعبوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ جدید دور کی ضروریات کے مطابق وہ صلاحیتیں لے کر نکلیں جو آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں ناگزیر ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے چھ بنیادی مہارتوں پر زور دیا، جن میں کوڈنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، تخلیقی صلاحیت (کریئیٹیویٹی)، مصنوعی ذہانت (AI) کے ساتھ اشتراک، سائبر تحفظ (سائبر سکیورٹی) اور مؤثر ابلاغ (کمیونیکیشن) شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ چھ بنیادیں ہی وہ مضبوط ستون ہیں جن پر ہمارے طلبہ ایک بدلتی ہوئی دنیا میں کامیابی سے ڈھل کر اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں گے۔
