مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,505 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,505
رائے و تجزیہ

معیشت کو پائیدار بنانے کیلئے ٹیکس اصلاحات جاری، فکس سکیم متعارف

📅 ہفتہ، 06 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا
معیشت کو پائیدار بنانے کیلئے ٹیکس اصلاحات جاری، فکس سکیم متعارف

اسلام آباد (دوست نیوز رپورٹ) — وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ٹیکس نیٹ میں توسیع، چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم اور ٹیکس نظام میں شفافیت لانے کے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات کا عمل جاری ہے، پاکستان معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے اور قومی آمدنی کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاجروں اور انجمن تاجران کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک نئی سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ ملک اس وقت معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس سفر میں قومی آمدنی کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کے باوجود معاشی استحکام کی بدولت حکومت کے پاس بفرز موجود رہے جس کے باعث سیلاب میں ریسکیو وریلیف اور درآمدی بلز خصوصاً تیل کے اخراجات اپنے وسائل سے پورے کیے گئے اور کسی سے مالی مدد نہیں لینی پڑی۔ انہوں نے اسے خود انحصاری کی اہم مثال قرار دیا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس نظام کو منصفانہ، متوازن اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، وزیراعظم اس اصلاحاتی عمل کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ ٹیکس نظام میں مزید بہتری اور وسعت کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ہفتے ٹیکس نظام سے متعلق اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک تجویز پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس شرح بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت معاشرے کے مختلف طبقات پر ٹیکس کا بوجھ غیرمتوازن ہے جسے درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ اس بات پر ہے کہ ٹیکس نظام کو زیادہ موثر اور شفاف بنایا جائے اور وہ طبقات جو اب تک مناسب حصہ نہیں ڈال رہے تھے انہیں بھی نظام میں لایا جائے۔

چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کے تقریباً 30 سے 40 لاکھ افراد پر مشتمل طبقے کو بھی اس نظام میں سہولت اور مشاورت کے ساتھ شامل کیا جا رہا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم مکمل مشاورت کے بعد متعارف کرائی جا رہی ہے جس میں تاجروں کی تنظیموں اور انجمن تاجران کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سکیم ان دکانداروں کے لیے ہوگی جن کا سالانہ ٹرن اوور 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ سکیم کے تحت دکاندار اپنی فروخت ظاہر کریں گے اور اس پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس عائد ہوگا، جس کا مقصد ٹیکس نظام کو سادہ، قابلِ عمل اور وسیع بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سکیم کے لیے ایک سادہ فارم تیار کیا گیا ہے جو مختلف علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگا اور دکاندار اپنی فروخت کی تفصیلات اس کے ذریعے جمع کرا سکیں گے، سکیم میں شامل ہونے کے بعد ودہولڈنگ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سکیم مکمل طور پر اختیاری ہوگی یعنی دکاندار اپنی مرضی سے اس میں شامل ہو سکیں گے یا روایتی نظام میں رہ سکتے ہیں۔

شامل ہونے والے دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے ایک خصوصی پلیٹ جاری کی جائے گی جس پر دکان کا نام، این ٹی این نمبر اور ”فرض شناس ٹیکس گزار“ درج ہوگا جبکہ اس پر کیو آر کوڈ بھی شامل ہوگا۔ کیو آر کوڈ کے ذریعے دکان کی تصدیق ممکن ہوگی اور انسپکشن کے عمل کو شفاف بنایا جائے گا۔ اس سکیم کے تحت شامل دکانداروں کو عمومی طور پر آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ صرف سنگین نوعیت کے معاملات میں تاجر تنظیموں کی مشاورت سے کارروائی کی جائے گی، پی او ایس سسٹم کی شرط سے بھی استثنیٰ دیا جائے گا اور ودہولڈنگ ایجنٹ کی حیثیت بھی ختم ہو جائے گی۔ یہ سہولت موجودہ فائلرز کے لیے بھی دستیاب ہوگی بشرطیکہ ان کا سالانہ ٹرن اوور گزشتہ تین سال میں کسی بھی ایک سال میں 20 کروڑ روپے سے زائد نہ ہو اور وہ کم از کم پچھلے سال کے برابر ٹیکس ادا کر رہے ہوں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جو دکاندار نہ اس سکیم میں شامل ہوں گے اور نہ ہی ٹیکس فائل کریں گے ان پر پہلے ماہ 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے ماہانہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ٹیگز: #اے آئی ٹیکس نظام #بلال اظہر کیانی #پاکستان #پاکستان ٹیکس نیٹ #ٹیکس اصلاحات #چھوٹے دکاندار #سینیٹر محمد اورنگزیب #فکس ٹیکس سکیم #معاشی استحکام
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں