قلم، کتاب اور خواب: پاکستان میں تعلیم کا بحران اور مستقبل کی تلاش

تجزیہ : نور فاطمہ
پاکستان میں تعلیم کی حقیقت: خواب، خوابیاں اور تلخ سچائیاں
صبح کے ٹھیک سات بجے ہیں۔ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دس سالہ عاصمہ اپنی ٹوٹی ہوئی چپل پہن کر گھر سے نکلتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کوئی بستہ نہیں، بلکہ ایک پلاسٹک کا تھیلا ہے جس میں وہ کچرا چنتی ہے۔ اسی وقت، دارالحکومت اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں، عاصمہ کی ہم عمر علیشا چمکتی ہوئی گاڑی میں سوار ہو کر ایک مہنگے نجی اسکول کے لیے روانہ ہوتی ہے۔
یہ دو الگ الگ پاکستان ہیں جو روز صبح ایک ہی وقت پر بیدار ہوتے ہیں۔ عاصمہ اور علیشا کا یہ فرق صرف دو بچوں کی کہانی نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے تعلیمی نظام کی وہ تلخ حقیقت ہے جو ملک کے مستقبل پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑی کرتی ہے۔
اعداد و شمار کا آئینہ: تعلیمی ایمرجنسی یا قومی بحران؟
ایک بین الاقوامی محقق کی نظر سے جب ہم حالیہ سرکاری دستاویزات اور عالمی اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لیتے ہیں، تو تصویر انتہائی تشویشناک نظر آتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی حالیہ رپورٹ "پبلک فنانسنگ ان ایجوکیشن” اور تعلیمی سروے (ASER 2025-2026) کے مطابق:
- اسکولوں سے باہر بچے: پاکستان میں اس وقت 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد (25.3 Million) بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ نائجیریا کے بعد یہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ یعنی ہر تین میں سے ایک بچہ کلاس روم کا منہ نہیں دیکھ پاتا۔
- خواندگی کی شرح (Literacy Rate): ملک میں شرح خواندگی محض 60.7 فیصد کے آس پاس جمود کا شکار ہے، جس میں صنفی اور علاقائی فرق بہت واضح ہے۔ جہاں پنجاب میں یہ شرح نسبتاً بہتر ہے، وہاں بلوچستان میں یہ گر کر 42 فیصد تک رہ جاتی ہے۔
- سیکھنے کی غربت (Learning Poverty): ورلڈ بینک کی سب سے ہلا دینے والی رپورٹ یہ ہے کہ پاکستان میں 10 سال کی عمر کے 77 فیصد بچے ایک سادہ سا جملہ یا پیراگراف پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو بچے اسکول جا بھی رہے ہیں، وہ صرف ڈگری لے رہے ہیں، تعلیم نہیں۔
تین نظام، ایک ملک: طبقاتی خلیج
پاکستان کے تعلیمی ڈھانچے کا سب سے بڑا المیہ اس کا تین حصوں میں تقسیم ہونا ہے:
- نجی اسکول (Elite Schools): جہاں بھاری فیسیں دے کر اشرافیہ کے بچے جدید ترین بین الاقوامی نصاب پڑھتے ہیں۔
- سرکاری اسکول: جہاں غریب کا بچہ جاتا ہے، جہاں اکثر نہ پینے کا صاف پانی ہوتا ہے، نہ بجلی اور نہ ہی تربیت یافتہ اساتذہ۔ (رپورٹ کے مطابق 34 فیصد سرکاری اسکولوں میں بجلی اور 21 فیصد میں پانی کی سہولت دستیاب نہیں)۔
- دینی مدارس: جہاں لاکھوں وہ بچے پڑھتے ہیں جن کے والدین کے پاس انہیں روٹی کھلانے کے پیسے بھی نہیں ہوتے۔
یہ تین مختلف نظامِ تعلیم ملک میں تین الگ الگ طبقات پیدا کر رہے ہیں جو ایک دوسرے کی زبان اور سوچ سے بالکل ناواقف ہیں۔ یہ نظام غریب کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کے بجائے، اسے ہمیشہ کے لیے پیچھے دھکیل دیتا ہے۔
بجٹ کی کمی اور ترجیحات کا فقدان
عالمی معیار (Incheon Declaration) کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنی جی ڈی پی (GDP) کا کم از کم 4 سے 6 فیصد تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں یہ بجٹ مسلسل کم ہو رہا ہے۔ سال 2024-2025 اور 2026 کے بجٹ تخمینوں کے مطابق، پاکستان تعلیم پر اپنی جی ڈی پی کا 2 فیصد سے بھی کم (تقریباً 1.5% سے 0.8%) خرچ کر رہا ہے۔
جب ریاست تعلیم کو اپنی ترجیح نہیں بنائے گی، تو اسکول "بھوت اسکول” (Ghost Schools) بنیں گے، اساتذہ کی بھرتیوں میں میرٹ کی پامالی ہوگی اور ملک کا سب سے بڑا سرمایہ—یعنی اس کی نوجوان نسل (جو کہ کل آبادی کا 64 فیصد ہے)—بغیر کسی ہنر کے ضائع ہو جائے گی۔
تاریک راہوں میں امید کے دیے
اس مایوس کن صورتحال میں بھی کچھ ایسی کہانیاں ہیں جو امید کی کرن جگاتی ہیں۔ ‘دی سٹیزنز فاؤنڈیشن’ (TCF) جیسے فلاحی ادارے اور کئی غیر سرکاری تنظیمیں ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں غریب بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم دے رہی ہیں۔ ان اسکولوں میں 100 فیصد خاتون اساتذہ کو رکھ کر بچیوں کی اسکول آمد کو ممکن بنایا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ‘احساس تعلیمی وظائف’ جیسے پروگرامز نے بھی غریب خاندانوں کی کسی حد تک مدد کی ہے، مگر چیلنج اتنا بڑا ہے کہ یہ کوششیں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔
اب آگے کا راستہ کیا ہے؟
اگر پاکستان کو دنیا کی صف اول میں کھڑا ہونا ہے، تو اسے فوری طور پر چند انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے:
- بجٹ میں اضافہ: تعلیم کے بجٹ کو فوری طور پر جی ڈی پی کے کم از کم 4 فیصد تک لانا ہوگا۔
- اساتذہ کی جدید تربیت: صرف عمارتیں بنانے سے تعلیم نہیں پھیلتی، اساتذہ کی تنخواہوں اور ان کی جدید خطوط پر تربیت کو لازمی بنانا ہوگا۔
- صنفی فرق کا خاتمہ: بلوچستان اور سندھ کے دیہی علاقوں میں جہاں 70 فیصد سے زائد لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں، وہاں لڑکیوں کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ اور وظائف کا انتظام کرنا ہوگا۔
آخری بات
قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا:
"تعلیم پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔”
آج آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے حل نہیں کر پائے۔ عاصمہ کے ہاتھ کا کچرے کا تھیلا اور علیشا کا اسکول بیگ، یہ دونوں پاکستان کے حکمرانوں سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا اس ملک کے ہر بچے کو برابر کا حق مل پائے گا؟ اگر ہم نے آج اپنی ترجیحات نہ بدلیں، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
یہ مضمون دوست نیوز ڈاٹ کام کی خصوصی پیشکش ہے، جس کا مقصد پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے عوامی اور حکومتی سطح پر شعور بیدار کرنا ہے۔
