سندھ کے سرکاری اسکولوں میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی درسی کتب شائع کرنے کا فیصلہ

لاڑکانہ۔ 01 مئی (دوست نیوز):سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مذہبی رواداری، ہم آہنگی اور شمولیتی تعلیمی اقدامات کے فروغ کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہندو طلبہ کو ان کے اپنے مذہب کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے مذہبی درسی کتب شائع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو باقاعدہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے نئے تعلیمی سال 2026-27 کے لیے جماعت سوم تا پنجم کے ہندو طلبہ کے لیے مذہبی کتب کی اشاعت اور تقسیم کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں ہندو سنتھا سمیت متعلقہ نمائندہ اداروں اور ماہرین سے مشاورت کے بعد نصابی مواد کی تیاری اور اشاعت کی اجازت دی گئی ہے۔اس حوالے سے اپنے بیان میں وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ مختلف مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو رواداری کے اصولوں کے تحت ان کے مذہبی حقوق فراہم کرنا سندھ حکومت کے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ اقدام کیا ہے جو ملک کے قیامِ کے ابتدائی دنوں میں ہی ہو جانا چاہیے تھا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ان کے مذہب کی تعلیم دینے کے بجائے اخلاقیات کا مضمون پڑھایا جاتا تھا، تاہم اب حکومت اس حق کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے ہندو طلبہ کو ان کے مذہب کی تعلیم فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی مذہبی برادری کو اس کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ ہندو طلبہ کو اخلاقیات کی بجائے اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق دے کر ہم نے اخلاقی ذمہ داری پوری کردی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ شمولیتی اور روادار معاشرے کے قیام پر یقین رکھتی ہے اور یہی وژن سندھ حکومت کے تعلیمی اقدامات میں بھی نمایاں ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ کریکولم کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کی فراہمی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے، جن کے تحت سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ آئندہ تعلیمی سال کے لیے مذہبی کتب شائع کرے گا، جبکہ صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہندو طلبہ کو یہ کتب فراہم بھی کی جائیں گی۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صوبے کے سرکاری اسکولوں میں جماعت سوم تا پنجم کے 129,119 ہندو طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، سوم تا پنجم جماعتوں میں ضلع تھرپارکر میں سب سے زیادہ 26,642 جبکہ ضلع عمرکوٹ میں 21,584 ہندو طلبہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں جماعت سوم سے پنجم تک کے لیے درسی کتب شائع کی جائیں گی۔واضح رہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ اس سے قبل بہائی، ہندو مت اور زرتشت مذہب سے متعلق نصابی کتب کی منظوری بھی دے چکا ہے، جس میں نیشنل کریکولم کونسل سے مشاورت شامل رہی۔
حالیہ اقدام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر تعلیم سندھ نے مزید کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہے گی، جس میں انہوں نے ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے افراد کو اپنی مذہبی روایات اور عقائد کے مطابق زندگی گزارنے اور عبادت کرنے کے حق پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ملک کے روادار اور مثبت تشخص کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
