مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 24°C
جمعرات، 5 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.62 EUR/PKR 310.84 GBP/PKR 372.65 سونا/تولہ (عالمی) 428,364 PKR Bitcoin $80,197 USD/PKR 276.62 EUR/PKR 310.84 GBP/PKR 372.65 سونا/تولہ (عالمی) 428,364 PKR Bitcoin $80,197
عالمی

عبدالرحمٰن السید: مصری تارکِ وطن کا بیٹا امریکی سینیٹ تک کیسے پہنچا؟

📅 ✍️ ⏱ 9 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ذیلی عنوان: مصری نژاد امریکی ڈاکٹر کی مشی گن میں پرورش، آکسفرڈ اور کولمبیا میں تعلیم، ڈیٹرائٹ کے صحت عامہ کے اداروں کی قیادت، 2018 کی شکست اور 2026 میں امریکی سینیٹ کے لیے تاریخی انتخاب کی مکمل داستان۔

دوست نیوز خصوصی فیچر | 5 نومبر 2026

امریکہ کی سیاست میں 3 نومبر 2026 کا انتخاب محض دو جماعتوں کی کشمکش نہیں تھا۔ ریاست مشی گن میں ڈاکٹر عبدالرحمٰن السید (Abdul El-Sayed) نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 42 سالہ السید کی کامیابی ایک ایسے شخص کی سیاسی واپسی بھی ہے جو آٹھ برس قبل اسی ریاست کے گورنر کا ڈیموکریٹک پرائمری انتخاب ہار گیا تھا۔

ان کی کہانی کو صرف مذہبی شناخت تک محدود کرنا درست نہیں۔ اس میں مصری تارکِ وطن خاندان، مشی گن کی صنعتی ثقافت، اعلیٰ تعلیم، شہری صحت عامہ کی انتظامیہ، ترقی پسند معاشی سیاست اور اسرائیل و غزہ پر شدید اختلافات سب شامل ہیں۔

مشی گن میں بچپن اور دو ثقافتوں کا ملاپ

عبدالرحمٰن السید امریکی ریاست مشی گن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مصر سے امریکہ آئے تھے۔ السید کی اپنی سوانحی معلومات کے مطابق ان کے والد گاڑی سازی کی صنعت میں کام کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ ڈیٹرائٹ اور اس کے گردونواح کی صنعتی روایت نے خاندان کے امریکی تجربے کو شکل دی۔ ان کی سوتیلی والدہ جیکی کا خاندان بھی کئی نسلوں سے مشی گن سے منسلک رہا ہے۔ اس طرح السید کی پرورش میں مصری مسلم ورثے اور مقامی امریکی معاشرت دونوں کا اثر موجود تھا۔

انہوں نے مشی گن کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور اسکول کے زمانے میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان کا سیاسی سفر اس عام تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ مذہبی یا تارکین وطن پس منظر رکھنے والے امیدوار صرف اپنی برادری کے ووٹوں پر انحصار کرتے ہیں۔

مشی گن سے آکسفرڈ اور کولمبیا تک

2007 میں السید نے یونیورسٹی آف مشی گن سے حیاتیات اور سیاسیات میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔ روڈز اسکالرشپ کے ذریعے آکسفرڈ یونیورسٹی پہنچے اور 2011 میں صحت عامہ میں ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ بعد میں کولمبیا یونیورسٹی سے 2014 میں میڈیکل ڈگری حاصل کی۔ وبائیات اور صحت عامہ سے ان کی علمی وابستگی بعد میں ان کے سیاسی منشور کا اہم حصہ بنی۔

ڈیٹرائٹ میں صحت عامہ کی ذمہ داری

2013 میں ڈیٹرائٹ نے مالی دیوالیہ پن کا اعلان کیا تھا۔ ایسے ماحول میں 2015 میں السید نے شہر کے محکمہ صحت کی قیادت سنبھالی۔ محکمہ صحت کی بحالی، شہری خدمات اور انتظامی فیصلوں کے تجربے نے انہیں عملی حکومتی نظام سے روشناس کرایا۔ فروری 2017 میں انہوں نے گورنر کا انتخاب لڑنے کے لیے یہ ذمہ داری چھوڑ دی۔

بعد میں 2022 سے 2025 تک وہ وین کاؤنٹی کے محکمہ صحت، انسانی خدمات اور سابق فوجیوں کی خدمات سے وابستہ اعلیٰ انتظامی عہدوں پر رہے۔ ان کے انتخابی بیانات میں بچوں کی بصارت، سیسے کی آلودگی، منشیات کی زیادہ مقدار سے ہونے والی اموات کی روک تھام اور طبی قرضوں سے متعلق اقدامات کو نمایاں کیا گیا؛ ان کارکردگی دعووں کو آزاد انتظامی آڈٹ کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

2018: پہلی بڑی شکست

2018 میں مشی گن کی گورنرشپ کے ڈیموکریٹک پرائمری میں گریچن وٹمر نے تقریباً 52 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ السید تقریباً 30 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ شری تھانیدار تیسرے نمبر پر آئے۔ شکست کے بعد السید نے صحت عامہ، پالیسی اور سیاسی مباحث میں سرگرمیاں جاری رکھیں۔ وہ 2020 میں جو بائیڈن کی مہم سے متعلق صحت پالیسی کے مشترکہ ٹاسک فورس سے وابستہ رہے اور Medicare for All: A Citizen’s Guide کے مصنف بھی ہیں۔

2026: ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سخت مقابلہ

سینیٹر گیری پیٹرز کے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کے فیصلے کے بعد مشی گن کی نشست کھل گئی۔ السید کا مقابلہ ڈیموکریٹک پرائمری میں کانگریس کی رکن ہیلی اسٹیونز سے ہوا۔ 4 اگست کے انتخاب میں السید نے تقریباً 48.5 فیصد اور اسٹیونز نے 47.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ معمولی فرق سے حاصل ہونے والی کامیابی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند اور روایتی سیاسی دھڑوں کی کشمکش کو نمایاں کیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل نواز سیاسی تنظیم AIPAC سے وابستہ انتخابی سرگرمیوں میں السید کی مخالفت پر تقریباً 30 ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ اعداد اس انتخاب میں بیرونی مالی اثرورسوخ کی شدت ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ انتخابی نتائج کی پوری وضاحت کسی ایک عامل سے نہیں کی جاسکتی۔

اسرائیل، غزہ اور مذہبی شناخت پر تنازعات

السید اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کے ناقد اور غزہ میں فلسطینی شہریوں کے حقوق کے حامی رہے ہیں۔ اس مؤقف نے انہیں ترقی پسند حلقوں میں حمایت دی، جبکہ بعض یہودی امریکی ووٹروں اور پارٹی رہنماؤں میں تحفظات بھی پیدا کیے۔ ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کے بعد ان کے الفاظ پر تنقید ہوئی اور انہوں نے ان سے پہنچنے والی تکلیف پر معذرت کی۔ متنازع سیاسی اسٹریمر حسن پائیکر کے ساتھ انتخابی سرگرمیوں پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض ری پبلکن رہنماؤں نے السید کی مذہبی شناخت اور وفاداری پر حملے کیے۔ انہیں شدت پسند تنظیموں سے منسلک کرنے کے الزامات کی معتبر تائید سامنے نہیں آئی؛ السید نے ایسے روابط کی تردید کی۔ اسرائیلی حکومت پر تنقید اور یہودیوں کے خلاف تعصب میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن سیاسی بیانات کے ممکنہ اثرات پر تنقیدی سوالات بھی جائز ہیں۔

مائیک راجرز کے خلاف تاریخی کامیابی

عام انتخابات میں السید کا مقابلہ سابق ری پبلکن کانگریس مین اور ایف بی آئی سے وابستہ رہنے والے مائیک راجرز سے تھا۔ راجرز 2024 میں بھی سینیٹ کا انتخاب معمولی فرق سے ہار چکے تھے۔ انہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی، لیکن 2026 میں مہنگائی، تجارتی محصولات، ایران کی جنگ اور طبی اخراجات پر عوامی بے چینی اہم انتخابی موضوعات بن گئے۔

السید نے طبی سہولتوں، محنت کش خاندانوں کے اخراجات اور سیاست میں بڑی رقوم کے اثرات پر توجہ دی۔ برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے ترقی پسند رہنماؤں نے ان کی حمایت کی۔ 4 نومبر کو ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر امریکی اداروں نے ان کی کامیابی کی تصدیق کی۔ ابتدائی نتائج میں السید تقریباً 52 فیصد اور راجرز تقریباً 46 فیصد ووٹ حاصل کرتے دکھائی دیے؛ حتمی سرکاری نتائج ان ابتدائی اعداد سے مختلف ہوسکتے ہیں۔

منشور اور اختلافات

السید Medicare for All یعنی وسیع حکومتی صحت بیمہ نظام، زیادہ آمدن اور دولت رکھنے والوں پر ٹیکس، مزدور حقوق اور انتخابی مہمات میں کارپوریٹ اثرورسوخ کم کرنے کے حامی ہیں۔ ان کے حامی ان پالیسیوں کو معاشی انصاف کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین صحت کے نئے نظام کی لاگت، ٹیکسوں اور نجی بیمہ صنعت پر اثرات کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد پر ان کے اعتراضات بھی مسلسل بحث کا موضوع رہیں گے۔

خاندان اور ذاتی زندگی

السید اپنی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جوکاکو اور دو بیٹیوں کے ساتھ مشی گن میں رہتے ہیں۔ وہ مصنف، پالیسی مبصر اور صحت عامہ کے ماہر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کی مسلم شناخت انتخابی مہم میں نمایاں رہی، لیکن ان کی کامیابی میں مختلف مذہبی اور نسلی پس منظر کے ووٹروں، نوجوانوں اور ترقی پسند کارکنوں کا کردار بھی شامل تھا۔

امریکی مسلمانوں کے لیے تاریخی لمحہ، لیکن اصل امتحان باقی

امریکہ کے ایوان نمائندگان میں پہلے بھی مسلمان ارکان منتخب ہوچکے ہیں، مگر وفاقی سینیٹ کے لیے کسی مسلمان کا انتخاب پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ سینیٹ میں 100 نشستیں ہوتی ہیں اور ہر ریاست کو دو نمائندے ملتے ہیں۔ مشی گن جیسی سخت مقابلے والی ریاست سے یہ کامیابی نمائندگی کے اعتبار سے غیر معمولی ہے۔

تاہم انتخاب جیتنا اور قانون سازی میں کامیاب ہونا دو الگ معاملات ہیں۔ السید کو صحت، ٹیکس، خارجہ پالیسی اور سیاسی اتحادوں کے بارے میں اپنے وعدوں کو عملی امتحان سے گزارنا ہوگا۔ 2018 کی شکست کے بعد 2026 کی فتح ان کی سیاسی ثابت قدمی ظاہر کرتی ہے، لیکن تاریخ میں ان کا مستقل مقام آنے والے برسوں کی کارکردگی سے طے ہوگا۔

مآخذ: Associated Press، Reuters، CBS News، NPR، Ballotpedia اور عبدالرحمٰن السید کا عوامی سوانحی و انتخابی ریکارڈ۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں