عطاء اللہ تارڑ کا صحافیوں کی ویلفیئر کیلئے نظام بنانے پر زور
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کی فلاح و بہبود اور دورانِ ڈیوٹی وفات پانے والے صحافیوں کے لیے معاوضے کا ایک باقاعدہ نظام وضع کرے۔ 5 نومبر 2026 کو جاری ہونے والی اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز سرکاری اور نجی شعبے سے خطیر اشتہارات حاصل کرتے ہیں اور ڈیجیٹل ذرائع سے بھی آمدن کماتے ہیں، اس کے باوجود میڈیا ہاؤسز صحافیوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔
صحافیوں کی فلاح و بہبود اور پی بی اے کی ذمہ داری
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اب یہ سلسلہ مزید نہیں چل سکتا کہ صحافیوں کی ویلفیئر کے لیے کوئی فنڈ قائم نہ ہو اور دورانِ ڈیوٹی وفات پانے والے صحافیوں کے لیے کوئی پیکج تک موجود نہ ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ میڈیا انڈسٹری کی معاشی سرگرمیوں کے باوجود ورکرز کے حقوق کو نظر انداز کیا جانا افسوسناک ہے۔ ان کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں صحافتی تنظیمیں پائیدار رپورٹنگ میں ایشیا پیسیفک کی برتری اور مقامی سطح پر پیشہ ورانہ تحفظ کے مسائل پر بحث کر رہی ہیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور توقعات
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کو اب اپنی سماجی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔ حکومت کی جانب سے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جاری کوششیں ایک ایسے وقت میں تیز ہو رہی ہیں جب ملک میں دیگر شعبوں میں بھی جدید اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں، جیسے کہ پاکستان میں روبوٹکس کی تعلیم تک رسائی کیلئے خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ کے اس مطالبے کا مقصد میڈیا انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد کو ایک محفوظ ورکنگ ماحول فراہم کرنا ہے۔ جہاں پائیداری کے عالمی رپورٹنگ معیارات میں ایشیا پیسیفک سرفہرست، اے سی سی اے تحقیق کے ذریعے میڈیا کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے، وہیں صحافیوں کی معاشی اور سماجی تحفظ کی ضمانت بھی ناگزیر ہے۔
اہم سوالات و جوابات
عطاء اللہ تارڑ نے پی بی اے سے کیا مطالبہ کیا ہے؟
عطاء اللہ تارڑ نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک نظام وضع کرے جس میں دورانِ ڈیوٹی وفات پانے والے صحافیوں کے لیے معاوضے کا پیکیج شامل ہو۔
ٹی وی چینلز کے بارے میں وزیر اطلاعات کا کیا موقف ہے؟
وزیر اطلاعات کا ماننا ہے کہ ٹی وی چینلز سرکاری اور نجی اشتہارات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ذرائع سے بھی بھاری آمدن حاصل کرتے ہیں، لہذا انہیں اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز قائم کرنے چاہییں۔
