امریکی تاریخ میں پہلی بار مسلمان سینیٹر منتخب، عبدالالسید نے تاریخ رقم کردی
امریکی تاریخ میں پہلی بار مسلمان سینیٹر منتخب، عبدالالسید نے تاریخ رقم کردی
*مشی گن (3D میڈیا)* امریکہ میں پہلی مرتبہ کسی مسلمان امیدوار نے سینیٹ کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کردی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر عبدالالسید نے ریاست مشی گن سے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست اپنے نام کرلی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 42 سالہ ڈاکٹر عبدالالسید امریکہ کی تاریخ کے پہلے مسلمان ہیں جو سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق مصری نژاد امریکی خاندان سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور صحت عامہ کے ماہر ہیں۔
عبدالالسید نے انتخابی مہم کے دوران عام شہریوں کے لیے صحت کی سہولتوں، مہنگائی میں کمی، معاشی انصاف اور سیاست میں بڑی کارپوریشنز کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے پر زور دیا۔ ان کے انتخابی منشور میں تمام شہریوں کے لیے حکومتی سرپرستی میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی کا منصوبہ بھی شامل تھا۔
ریاست مشی گن کی یہ انتخابی نشست سابق ڈیموکریٹک سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہوئی تھی۔ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز سابق رکن کانگریس اور ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران عبدالالسید کو ان کے مسلم پس منظر اور اسرائیل سے متعلق مؤقف کی بنیاد پر سیاسی تنقید اور الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے اخراجات میں کمی، فلسطین کے معاملے پر امریکی پالیسی میں تبدیلی اور اسرائیل کو غیر مشروط فوجی امداد کی مخالفت کو اپنی مہم کا حصہ بنایا۔
عبدالسید کی کامیابی کو امریکی سیاست میں مسلم امریکی برادری کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل مسلمان امریکی ایوان نمائندگان کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں، تاہم امریکی سینیٹ میں پہلی مرتبہ کسی مسلمان کو منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
ڈاکٹر عبدالالسید جنوری 2027 میں سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھائیں گے۔
