سنگاپور کے وزیر خارجہ کا نسٹ کا دورہ، مصنوعی ذہانت اور تحقیق میں تعاون پر گفتگو
سنگاپور کی جامعات اور نسٹ کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال؛ وفد نے قومی مرکز برائے مصنوعی ذہانت کے منصوبے بھی دیکھے
اسلام آباد، 2 نومبر 2026 — سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویویان بالاکرشنن نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کا دورہ کیا، جہاں سنگاپور کی جامعات اور نسٹ کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔ گفتگو میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں اشتراک پر خصوصی توجہ دی گئی۔
نسٹ آمد پر ریکٹر ڈاکٹر زاہد لطیف اور پرو ریکٹر ڈاکٹر رضوان ریاض نے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔
مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں اشتراک کی دلچسپی
ڈاکٹر بالاکرشنن نے تقریباً تین دہائیوں میں نسٹ کی ترقی کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے جامعہ کے تعلیمی معیار، تحقیق اور جدت کے فروغ کے لیے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے سنگاپور کے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور نسٹ کے درمیان تعاون کے امکانات تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
سنگاپور کے وزیر خارجہ نے روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کو باہمی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔
تعلیمی و تحقیقی روابط مضبوط بنانے پر زور
ریکٹر نسٹ ڈاکٹر زاہد لطیف نے کہا کہ جامعہ سنگاپور کے تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ روابط مزید مستحکم بنانے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے وفد کو نسٹ کے عالمی مقام، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور تحقیقی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
ڈاکٹر زاہد لطیف نے جامعہ کی تعلیمی و تحقیقی کامیابیوں کو اساتذہ کی صلاحیتوں سے منسوب کرتے ہوئے بتایا کہ نسٹ کے 45 محققین دنیا کے دو فیصد ممتاز ترین سائنس دانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
قومی مرکز برائے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کا جائزہ
قومی مرکز برائے مصنوعی ذہانت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر یاسر ایاز نے وفد کو نسٹ کے مصنوعی ذہانت سے متعلق اقدامات اور پاکستان میں اس شعبے کے فروغ کے لیے مرکز کے کردار پر بریفنگ دی۔
وزیر خارجہ اور ان کے وفد نے نسٹ کے قومی مرکز برائے مصنوعی ذہانت کے ایکسپیرینس سینٹر کا بھی دورہ کیا اور وہاں پیش کیے گئے منصوبے دیکھے۔ نسٹ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ منصوبے تیاری کے بعد عملی طور پر نافذ کیے جا چکے ہیں۔ ڈاکٹر بالاکرشنن نے ان کے عملی استعمال اور نتائج کو سراہا۔
