پاکستان، اکتوبر 2026: بحالی کی امید یا نئے دباؤ کی آہٹ؟
مہنگائی، سیاسی کشیدگی اور مہنگے قرض کے درمیان برآمدات، ٹیکنالوجی اور کاروبار کے امکانات؛ ترقی کا اصل امتحان عام شہری کی زندگی میں بہتری ہے
دوست نیوز اسپیشل رپورٹ | 31 اکتوبر 2026
اکتوبر ختم ہوا تو پاکستان کے سامنے ایک ایسا منظر تھا جسے صرف کامیابی یا ناکامی کی سرخی میں سمیٹنا مشکل ہے۔ بیرونی آمدن اور بعض پیداواری شعبوں میں بہتری کے اشارے موجود تھے، مگر مہنگائی، کاروباری لاگت اور سیاسی تنازع بھی اپنی جگہ قائم تھے۔ اسٹاک مارکیٹ کا عدد، زرمبادلہ کی دستیابی اور شہری کی قوتِ خرید ایک ہی رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔ اسی فاصلے میں اس مہینے کی اصل کہانی پوشیدہ ہے: استحکام کے امکانات پیدا ہوئے، لیکن ان سے روزمرہ زندگی کتنی بدلی؟
یہ جائزہ اکتوبر 2026 کے واقعات اور 31 اکتوبر تک دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔ ستمبر یا مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اعداد کو ان کی اصل مدت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اکتوبر کی مکمل ماہانہ مہنگائی کا حتمی نتیجہ اس تحقیق میں دستیاب نہیں؛ اس کے متعلق حکومتی پیش گوئی کو تخمینہ ہی رکھا گیا ہے۔ سیاسی اور سلامتی کے متنازع دعووں میں فریقین کی نسبت واضح ہے۔ تجزیے کا مقصد حکومت یا اپوزیشن کے بیانیے کی توثیق نہیں، بلکہ دستیاب شواہد سے قومی صورت حال سمجھنا ہے۔
سیاست: خیبر پختونخوا کا بحران اور اعتماد کا سوال
مہینے کی بڑی سیاسی پیش رفت خیبر پختونخوا میں وفاقی مداخلت تھی۔ رائٹرز کی 11 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق صدر نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت معطل ہوئی۔ وفاق نے اقدام کو شدت پسندی سے نمٹنے میں صوبائی ناکامی سے جوڑا۔ تحریک انصاف نے یہ الزام مسترد کیا اور ضروری وسائل و سامان فراہم نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔ جماعت کے ترجمان نے اقدام کو احتجاج روکنے کی کوشش قرار دیا۔ یہ متقابل مؤقف ہیں، کسی ایک کی حتمی عدالتی توثیق اس رپورٹ کا دعویٰ نہیں۔
قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں 15 اکتوبر کو مشترکہ اجلاس کی جانب سے 11 اکتوبر کے اعلانِ ایمرجنسی کی منظوری درج ہے۔ یہ پارلیمانی کارروائی کی تصدیق ہے؛ اس سے سیاسی اتفاقِ رائے یا تمام قانونی اعتراضات کا خاتمہ خودبخود ثابت نہیں ہوتا۔
اس بحران کا معاشی پہلو بھی اہم ہے۔ سرمایہ کاری کے لیے صرف مراعات کافی نہیں ہوتیں؛ کاروبار کو فیصلوں کے تسلسل اور انتظامی ذمہ داری کی وضاحت چاہیے۔ یہ ادارتی تجزیہ ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کا فقدان مقامی منصوبوں اور خدمات کی نگرانی کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ تاہم اس تنازع سے اکتوبر میں ہونے والے کاروباری نقصان کی کوئی قابلِ اعتماد مجموعی رقم دستیاب شواہد سے اخذ نہیں کی جا سکتی۔
مہنگائی: شرح میں نرمی، قیمتوں میں کمی نہیں
ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر 2026 میں قومی صارف قیمتوں کی سالانہ شرحِ اضافہ 10.26 فیصد اور ماہانہ اضافہ 1.27 فیصد تھا۔ جولائی تا ستمبر اوسط مہنگائی 10.20 فیصد رہی۔ یہ اکتوبر میں معیشت کو سمجھنے کا تازہ دستیاب ماہانہ پس منظر ہے، خود اکتوبر کا حتمی نتیجہ نہیں۔
وزارت خزانہ نے اکتوبر کے لیے 9.5 سے 10.5 فیصد مہنگائی کی پیش گوئی کی۔ اس تخمینے میں توانائی، خوراک کی رسد اور عالمی حالات کو اہم قرار دیا گیا۔ اگر شرح گزشتہ مہینے سے کم بھی ہو، تب بھی اس کا مطلب عموماً قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہونا ہوتا ہے، اشیا کا پرانی قیمتوں پر واپس آ جانا نہیں۔ یہی فرق سرکاری اعداد اور گھر کے بجٹ کے درمیان غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔
محدود آمدن والے خاندان کے لیے سوال یہ ہے کہ تنخواہ بڑھنے سے پہلے کرایہ، سفر، خوراک اور علاج کتنے مہنگے ہوئے۔ قومی اوسط ہر گھر کا تجربہ یکساں طور پر ظاہر نہیں کرتی۔ خوراک پر زیادہ خرچ کرنے والا خاندان اور زیادہ سفری اخراجات رکھنے والا ملازم مختلف دباؤ محسوس کر سکتے ہیں۔ اس لیے مہنگائی کے جائزے میں قیمت کے ساتھ آمدن اور اخراجات کی ساخت دیکھنا بھی ضروری ہے۔
بازار اور تاجر: تھوک سے پرچون تک قیمت کا سفر
8 اکتوبر کے سرکاری بیان میں وزارت منصوبہ بندی نے ضروری اشیا، خصوصاً آٹے کی بڑھتی قیمتوں اور تھوک و پرچون کے فرق پر تشویش ظاہر کی۔ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو رسد، منڈیوں میں آمد، ذخیرہ اندوزی اور غیرجائز منافع کی نگرانی کی ہدایت دی گئی۔ یہ انتظامی مسئلے کی شناخت تھی؛ قیمتیں واقعی کتنی کم ہوئیں، اس کے لیے بعد کی پیمائش درکار ہے۔
تاجر کے معاملے میں بھی ایک ہی وضاحت کافی نہیں۔ خریداری، بجلی، نقل و حمل اور مالی لاگت بڑھنے سے فروخت کی قیمت متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف حقیقی لاگت کا نام لے کر ہر اضافہ درست قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ مؤثر نگرانی کو خریداری کی رسید، دستیاب اسٹاک اور مختلف منڈیوں کی قیمتوں کے تقابل پر کھڑا ہونا چاہیے۔
14 اکتوبر کو ایف بی آر نے کاروباری تنظیموں سے ملاقاتوں کے بعد متعلقہ افسران کو صنعت کے نمائندوں سے باقاعدہ رابطے اور زیرالتوا مسائل حل کرنے کی ہدایت دی۔ نتیجہ جانچنے کا معیار ملاقاتوں کی تعداد نہیں، شکایت نمٹانے کا وقت، طریقۂ کار کی وضاحت اور کاروباری غیر یقینی میں کمی ہوگا۔ قومی سطح پر اکتوبر کی پرچون فروخت کا جامع عدد ملے بغیر تمام بازاروں کو یکساں تیزی یا مندی میں قرار دینا درست نہیں۔
شرح سود: استحکام کی قیمت کون ادا کرے گا؟
اسٹیٹ بینک کے 26 اکتوبر کے سرکلر نے پالیسی شرح 11.50 سے بڑھا کر 12 فیصد کی، جس کا اطلاق 27 اکتوبر سے ہوا۔ نصف فیصد پوائنٹ کا اضافہ قرض لینے والوں کے لیے اہم اشارہ تھا۔
پالیسی شرح ہر قرض کی براہ راست شرح نہیں ہوتی؛ اصل لاگت معاہدے، بینک کے اضافی مارجن، مدت اور متعلقہ مالی سہولت پر منحصر رہتی ہے۔ پھر بھی شرح میں اضافہ کاروبار کو اپنے نقد بہاؤ اور توسیعی منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لینے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ادارہ دباؤ محسوس کر سکتا ہے جس کی فروخت ادھار اور خریداری نقد ہو۔
دوسری طرف مرکزی بینک کے لیے قیمتوں کے دباؤ کو نظرانداز کرنا بھی آسان نہیں۔ بلند مہنگائی بچت، منصوبہ بندی اور حقیقی آمدن کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اصل پالیسی توازن قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور پیداواری سرگرمی کو غیرضروری طور پر دبنے سے بچانے میں ہے۔ اکتوبر کے فیصلے کا مکمل اثر اسی مہینے کی چند کاروباری نشستوں سے نہیں ناپا جا سکتا؛ قرض، سرمایہ کاری اور قیمتوں کے بعد کے اعداد زیادہ واضح تصویر دیں گے۔
معیشت: بڑھوتری موجود، رفتار اور فائدے غیرہموار
اکتوبر کے اقتصادی جائزے میں مالی سال 2025-26 کی نظرثانی شدہ حقیقی معاشی نمو 3.65 فیصد بتائی گئی، جبکہ پہلے تخمینہ 3.70 فیصد تھا۔ کاروباری اخبار بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق زراعت، صنعت اور خدمات میں بالترتیب 3.50، 3.34 اور 3.81 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ سالانہ اعداد ہیں؛ انہیں اکتوبر کی الگ شرحِ نمو کہنا غلط ہوگا۔
ان اعداد کا محتاط مطلب یہ ہے کہ پیداوار بڑھی، لیکن تمام شعبوں کی رفتار برابر نہیں تھی۔ کسی ملک کی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہر شہری کی آمدن میں یکساں اضافے کی ضمانت نہیں۔ تقسیمِ آمدن، روزگار کی نوعیت اور قیمتیں یہ طے کرتی ہیں کہ معاشی بڑھوتری کا فائدہ گھر تک کس شکل میں پہنچتا ہے۔
اسی لیے اس رپورٹ کا تجزیاتی نتیجہ مکمل معاشی تنزلی یا غیرمشروط خوش حالی، دونوں سے مختلف ہے۔ نمو کا ثبوت موجود ہے، مگر عوامی آسودگی کا فیصلہ الگ شواہد مانگتا ہے۔ اکتوبر کے مخصوص قومی روزگار اور حقیقی اجرت کے جامع اعداد دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ملازمتوں میں بڑے اضافے یا کمی کا غیرمصدقہ عدد شامل نہیں کیا گیا۔
بیرونی تجارت: برآمدات بڑھیں، درآمدی ضرورت بھی
وزارت خزانہ کے اکتوبر جائزے کے مطابق جولائی تا ستمبر 2026 میں اشیا کی برآمدات 8.5 ارب ڈالر اور درآمدات 17.8 ارب ڈالر رہیں؛ ان میں بالترتیب 7.7 اور 14.3 فیصد اضافہ ہوا۔ جاری کھاتے کا خسارہ 874 ملین ڈالر جبکہ ترسیلات زر 10.9 ارب ڈالر رہیں۔ ترسیلات میں اضافہ 14 فیصد تھا۔
یہ اعداد دو متوازی حقیقتیں دکھاتے ہیں۔ بیرونی آمدن بڑھ رہی تھی، لیکن اشیا کی درآمدی ادائیگیوں کی رفتار بھی زیادہ تھی۔ درآمد کو مکمل طور پر منفی کہنا مناسب نہیں: مشینری یا پیداواری سامان مستقبل کی صلاحیت بڑھا سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اضافی درآمد بعد میں برآمد، پیداوار یا بچت میں کتنا اضافہ کرتی ہے۔
ترسیلات گھرانوں اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے سہارا ہیں، مگر مقامی صنعت کی مسابقت کا متبادل نہیں۔ اکتوبر کی بحث میں برآمدی آرڈرز، ان کی بروقت تکمیل اور منافع کی گنجائش کو محض ڈالر آمدن سے الگ دیکھنے کی ضرورت رہی۔ تجارتی توازن بہتر بنانے کے لیے درآمد روکنے اور پیداواری ضرورت پوری کرنے کے درمیان فرق سمجھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
صنعت اور زراعت: ایک ہی معیشت کی مختلف رفتاریں
بزنس ریکارڈر کے اقتصادی خلاصے کے مطابق جولائی تا اگست بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ تقابلی مدت میں اضافہ 4.8 فیصد تھا۔ خریف کے عارضی تخمینوں میں مکئی 9.98 ملین ٹن، گنا 97.3 ملین ٹن اور چاول 10.2 ملین ٹن بتائے گئے۔ کپاس کی پیداوار میں 4.8 فیصد کمی کا تخمینہ تھا۔
یہ صورت حال بتاتی ہے کہ زرعی بہتری کو ہر فصل اور صنعتی نمو کو ہر کارخانے پر یکساں لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ زیادہ فصل بھی کسان کے بہتر منافع کی ضمانت نہیں، اگر پیداواری خرچ بڑھ جائے یا فروخت کی قیمت توقع سے کم رہے۔ اسی طرح پیداوار بڑھانے والا کارخانہ وصولیوں میں تاخیر کے باعث مالی دباؤ میں رہ سکتا ہے۔
22 اکتوبر کو وزارت تجارت کے اجلاس میں برآمد کنندگان کی توانائی، ٹیکس، قرض اور منڈی تک رسائی سے متعلق مشکلات زیرغور آئیں۔ یہ مشاورت مسائل کے تسلیم کیے جانے کا ثبوت ہے؛ ان کے مکمل حل کا نہیں۔ پالیسی کا نتیجہ معلوم کرنے کے لیے اعلان کے بعد قواعد، عملی نفاذ اور کاروباری اثرات کی الگ جانچ ضروری ہوگی۔
اسٹاک ایکسچینج: آخری نشست کا عدد کیا بتاتا ہے؟
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرکاری پورٹل پر 30 اکتوبر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 166,409.25 پوائنٹس درج تھا۔ اس نشست میں 784.18 پوائنٹس، یعنی 0.47 فیصد کمی ہوئی۔ ستمبر کے اختتام کی 169,969 کی سطح سے تقابل کیا جائے تو اکتوبر کا اختتامی فرق تقریباً منفی 2.09 فیصد بنتا ہے۔ یہ دونوں اختتامی سطحوں سے کیا گیا حساب ہے، صرف آخری دن کی تبدیلی نہیں۔
اس کمی سے پورے کاروباری نظام کی یکساں مندی ثابت نہیں ہوتی، جیسے انڈیکس میں اضافہ ہر چھوٹے کاروبار کی کامیابی نہیں دکھاتا۔ درج شدہ کمپنیوں کے منافع، شرح سود، عالمی حالات اور سرمایہ کاروں کی توقعات مارکیٹ کو متاثر کرتی ہیں۔ ایک صنعت کا بہتر نتیجہ دوسری صنعت کے مسائل کو چھپا بھی سکتا ہے۔
عام قاری کے لیے اہم فرق بازارِ حصص اور روزمرہ بازار کے درمیان ہے۔ پہلے میں مستقبل کی توقعات تیزی سے قیمتوں میں شامل ہوتی ہیں؛ دوسرے میں اجرت، فروخت اور اخراجات کا تجربہ بتدریج بدلتا ہے۔ اس لیے اکتوبر کے قومی جائزے میں اسٹاک مارکیٹ ایک اہم پیمانہ ہے، پوری معیشت کا واحد فیصلہ نہیں۔
ترقیاتی سرگرمیاں: عمارت سے آگے خدمت کا معیار
وزارت خزانہ کے مطابق جولائی تا ستمبر ملکی سیمنٹ ترسیلات 7.8 فیصد بڑھ کر 10.8 ملین ٹن ہوئیں۔ یہ تعمیراتی طلب کا ایک اشارہ ہے، تمام ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی شرح نہیں۔
ترقیاتی جائزے میں منظوری، رقم مختص ہونے، ادائیگی اور مکمل ہونے کے مراحل الگ رکھنے چاہییں۔ کسی سڑک، اسکول یا ہسپتال کا اعلان عوامی فائدے کا آغاز ہو سکتا ہے؛ فائدہ تب ثابت ہوتا ہے جب سہولت استعمال کے قابل اور مسلسل فعال ہو۔ دیکھ بھال کا خرچ اور متعلقہ عملہ بھی منصوبے کی اصل قیمت کا حصہ ہیں۔
رئیل اسٹیٹ میں بھی تعمیر کی سرگرمی، قانونی منظوری اور خریدار کی مالی استطاعت تین الگ سوال ہیں۔ کسی علاقے کی مجموعی ترقی سے ہر منصوبے کی قانونی حیثیت یا منافع ثابت نہیں ہوتا۔ یہ عمومی تجزیاتی احتیاط ہے، کسی مخصوص منصوبے کے خلاف الزام نہیں۔ اکتوبر کو ترقی کا مہینہ قرار دینے کے لیے افتتاحی تصاویر کے ساتھ مکمل خدمات، معیار اور شہری رسائی کا ریکارڈ بھی دیکھا جانا چاہیے۔
ٹیکنالوجی: برآمدی امکان، مگر کامیابی کی الگ شرائط
6 اکتوبر کی جیو نیوز رپورٹ کے مطابق پاکستانی کمپنیوں نے ابوظبی کی مصنوعی ذہانت کی نمائش میں مصنوعات اور خدمات پیش کیں۔ پاکستانی حکام سے منسوب اعداد میں مالی سال 2025-26 کے دوران متحدہ عرب امارات کو آئی ٹی برآمدات 536 ملین ڈالر بتائی گئیں، جو گزشتہ سال کے 376 ملین ڈالر سے زیادہ تھیں۔ یہ سالانہ تقابل ہے، اکتوبر کی برآمدی وصولی نہیں۔
ستمبر کی آئی ٹی برآمدات کے بارے میں مشیر خزانہ خرم شہزاد سے منسوب خبر میں 435 ملین ڈالر اور سالانہ 18 فیصد اضافے کا ذکر آیا۔ اسے حکومتی عہدے دار کے بیان کی نسبت سے پیش کیا جا رہا ہے۔
ادارتی تجزیے میں ٹیکنالوجی کی اصل اہمیت مصنوعات، ہنر اور قابلِ تکرار برآمدی آمدن پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ نمائش میں شرکت مفید رابطہ ہو سکتی ہے، لیکن اسے خودبخود نئے معاہدے یا وصول شدہ سرمایہ کاری نہیں کہنا چاہیے۔ نوجوانوں کے لیے تربیت، معیاری کام، صارف کا اعتماد اور ادائیگی کی قابلِ اعتماد سہولت اس موقع کو پائیدار روزگار میں بدلنے کی بنیادی شرائط ہیں۔
تعلیم: محفوظ کلاس روم ترقی کی پہلی شرط
15 اکتوبر کو یونیسف نے پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کی اطلاعات پر بیان جاری کیا۔ اس وقت بیان میں کم از کم 28 بچوں اور ایک استاد کی ہلاکت، جبکہ 50 سے زیادہ بچوں کے زخمی ہونے کا ذکر تھا۔ یہ اسی تاریخ کے بیان میں درج تعداد ہے، بعد کی حتمی تحقیقات کا نتیجہ نہیں۔
اس سانحے نے تعلیم کے جائزے کو داخلوں اور نئی عمارتوں سے آگے بڑھایا۔ بچے کا اسکول پہنچنا کافی نہیں، اس کا محفوظ رہنا بھی بنیادی شرط ہے۔ یونیسف نے سرکاری اور نجی اسکولوں میں عمارتوں کے حفاظتی معیار اور باقاعدہ معائنے پر زور دیا۔
اس تناظر میں موزوں سوال یہ ہے کہ عمارت کی جانچ کون کرتا ہے، خامی ملنے پر کیا کارروائی ہوتی ہے اور والدین کو کیا بتایا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ واقعے کی تکنیکی وجہ یا کسی فرد کی قانونی ذمہ داری کا فیصلہ نہیں کرتی۔ البتہ تعلیمی ترقی کی پیمائش میں حفاظت، تدریسی معیار اور شکایت پر عمل کو شامل کرنا ناگزیر ہے۔
صحت: مہم کی کامیابی اور بیماری کی باقی موجودگی
انسداد پولیو پروگرام نے 7 اکتوبر کو بتایا کہ 21 سے 27 ستمبر کی ذیلی قومی مہم میں 29.3 ملین سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی گئی۔ اسے اکتوبر میں جاری نتیجہ سمجھنا چاہیے، اکتوبر کی الگ مہم نہیں۔ 19 اکتوبر کے سرکاری اندراج میں کراچی مشرقی سے سال کا ساتواں پولیو کیس سامنے آیا۔
یہ دونوں اطلاعات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتیں۔ بڑی تعداد تک رسائی پیش رفت ہے، جبکہ نیا کیس بتاتا ہے کہ بیماری کے خاتمے کا کام باقی ہے۔ مہم کی مجموعی تعداد کے ساتھ رہ جانے والے بچوں اور متاثرہ علاقوں تک رسائی بھی اہم ہے۔
16 اکتوبر کو یونیسف نے لیشمینیا کے علاج کے لیے 75 ہزار وائلز فراہم کرنے کی اطلاع دی۔ بیان کے مطابق خیبر پختونخوا میں جنوری سے 10,500 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے، جن میں 16 سال سے کم عمر 4,400 سے زیادہ بچے شامل تھے۔ یہ سال کے آغاز سے جمع شدہ تعداد ہے۔ ادویات کی فراہمی مثبت قدم ہے؛ حقیقی اثر علاج تک رسائی اور مریض کی بحالی سے معلوم ہوگا۔
معاشرتی تحفظ: بچے کو انصاف میں بھی جگہ چاہیے
22 اکتوبر کو وفاقی جوڈیشل اکیڈمی، یونیسف اور گروپ ڈیولپمنٹ پاکستان کے اشتراک سے اسلام آباد میں ماڈل چائلڈ کورٹ اور تربیتی مرکز کا افتتاح ہوا۔ یونیسف کے مطابق اس کا مقصد عدالتی اہلکاروں کو بچوں کی ضروریات کے مطابق کارروائی کی عملی تربیت دینا ہے۔ یہ تربیتی نمونہ ہے، پورے ملک میں یکساں سہولت قائم ہونے کا اعلان نہیں۔
معاشرتی ترقی کے اس پہلو کو اقتصادی گفتگو میں اکثر کم جگہ ملتی ہے۔ بچے، خاتون یا کم آمدن شہری کے لیے نظام کی قدر اس وقت واضح ہوتی ہے جب اسے مدد، تحفظ یا انصاف درکار ہو۔ نئی سہولت مفید ہو سکتی ہے، مگر اس کی کامیابی استعمال، رسائی اور طرزعمل سے جانچی جائے گی۔
رپورٹ کا تجزیاتی نکتہ یہ ہے کہ انسانی وقار اور معاشی ترقی کو الگ خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بیماری، عدم تحفظ اور غیرضروری قانونی مشکلات تعلیم اور روزگار کے مواقع محدود کر سکتی ہیں۔ بہتر معاشرہ محض آمدن بڑھنے سے نہیں، اداروں کے قابلِ اعتماد ہونے سے بھی بنتا ہے۔
دفاع اور خارجہ: سلامتی کے ساتھ سفارت کاری کا امتحان
24 اکتوبر کے پاکستانی سرکاری مؤقف میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خدشات پر قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ دہرایا گیا۔ اسلام آباد نے کہا کہ وہ باہمی احترام اور عملی اقدامات کی بنیاد پر رابطے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب 5 اکتوبر کی رائٹرز رپورٹ میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے مسائل کے سفارتی حل کی بات کی اور پاکستان پر دباؤ کے ذرائع استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ طالبان حکومت پاکستان میں شدت پسندی کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔ ان الزامات کو کسی آزاد فیصلے کے طور پر نہیں بلکہ فریقین کے مؤقف کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
دفاعی جائزے میں شہریوں کی سلامتی، عملی نتائج اور سفارتی راستے ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ غیرمصدقہ ہلاکتوں یا عسکری برتری کے دعوے اس رپورٹ میں شامل نہیں۔ پائیدار امن کا معاشی تعلق بھی واضح ہے: تجارت کو قابلِ اعتماد راستے، کاروبار کو تحفظ اور سرحدی آبادیوں کو معمول کی زندگی چاہیے۔ سلامتی کی ضرورت حقیقی ہے؛ اس کے ساتھ تنازع کم کرنے کی کوشش بھی ریاستی مفاد کا حصہ ہے۔
اکتوبر کا حاصل: اگلا فیصلہ اعلانات نہیں، نتائج کریں گے
اس مہینے کے شواہد ایک ملی جلی تصویر بناتے ہیں۔ معاشی نمو اور بیرونی آمدن کے مثبت اشارے موجود ہیں؛ مہنگائی، مہنگا سرمایہ، غیرہموار صنعتی رفتار اور سیاسی اختلاف بھی نمایاں ہیں۔ تعلیم، صحت اور بچوں کے تحفظ کے واقعات بتاتے ہیں کہ ترقی کا فیصلہ قومی کھاتوں سے آگے بڑھ کر کرنا ہوگا۔
آئندہ جائزے کے لیے پانچ سوال بنیادی رہیں گے: کیا حتمی مہنگائی اور حقیقی آمدن میں فرق کم ہوا؟ کیا برآمدی اضافہ برقرار رہا؟ کیا کاروباری مسائل پر مشاورت قابلِ پیمائش سہولت بنی؟ کیا سلامتی اور سیاسی کشیدگی میں کمی آئی؟ اور کیا اسکول، علاج اور انصاف کے ادارے شہری کے لیے زیادہ محفوظ اور قابلِ رسائی ہوئے؟
اکتوبر 2026 نے پاکستان کو امکانات اور کمزوریوں، دونوں کا عکس دکھایا۔ اصل پیش رفت تب ہوگی جب بہتر عدد کے ساتھ بہتر تجربہ بھی سامنے آئے: کاروبار اپنا خرچ پورا کر سکے، خاندان ضروریات پوری کر سکے اور بچہ محفوظ ماحول میں سیکھ سکے۔ اسی مقام پر معاشی بحالی ایک سرخی سے نکل کر معاشرتی حقیقت بنتی ہے۔
*مرکزی تصویر: اکتوبر 2026 میں پاکستان کے قومی حالات کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر۔*
