جڑواں شہروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے متاثرین کا تین ماہ میں پلاٹوں کا قبضہ یا مارکیٹ ریٹ پر رقم دینے کا مطالبہ
اسلام آباد — نیوز ڈیسک
راولپنڈی اور اسلام آباد کی مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تین ماہ کے اندر پلاٹوں کا قابلِ تصدیق قبضہ دیا جائے اور جہاں پلاٹ فراہم کرنا ممکن نہ ہو، وہاں موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق رقم ادا کی جائے۔ انہوں نے سوسائٹیوں کے اراضی، الاٹمنٹ اور مالی معاملات کا شفاف فرانزک آڈٹ اور غیر جانب دارانہ انکوائری کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرہ جبیں، سید ظفر اللہ پاشا، شیخ نصیر اور دیگر نمائندوں نے کہا کہ متعدد شہری اپنی جمع پونجی لگانے کے باوجود برسوں سے پلاٹوں کے قبضے اور بنیادی سہولتوں کے منتظر ہیں۔
پریس کانفرنس میں جناح گارڈن، سوہان گارڈن فیز ون و ٹو، گلبرگ گرین، کیپیٹل انکلیو، کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی، دی لائف ریذیڈنشیا اور دیگر سوسائٹیوں سے متعلق شکایات پیش کی گئیں۔ مقررین نے سی ڈی اے اور محکمہ کوآپریٹو پر شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں مبینہ غفلت کا الزام لگاتے ہوئے زمین کی ملکیت، پلاٹوں کی الاٹمنٹ، کمرشلائزیشن اور انتظامی فیصلوں کی چھان بین کا مطالبہ کیا۔
قبضے میں تاخیر اور بنیادی سہولتوں پر شکایات
نمائندوں کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سرمایہ لگانے والوں میں ریٹائرڈ ملازمین، محنت کش اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول بعض خریداروں کو وطن واپس آنے پر اپنے نام پر خریدے گئے پلاٹ زمین پر نہیں ملے، جبکہ کئی خاندان طویل عرصے سے دفاتر اور عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض آبادیوں میں اسکولوں، پارکوں اور دیگر عوامی سہولتوں کے لیے مختص جگہوں کو تجارتی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ مقررین نے کہا کہ آبادی بڑھنے کے باوجود تعلیمی ادارے، طبی سہولتیں، بجلی اور دیگر ضروری خدمات رہائشیوں کی ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں۔
متاثرین نے مطالبہ کیا کہ سوسائٹیوں کے منظور شدہ نقشوں، عوامی سہولتوں کے لیے مختص اراضی اور اس کے موجودہ استعمال کا جائزہ لے کر خلاف ورزیوں کی صورت میں ذمہ داری متعین کی جائے۔
مسماری کے نوٹس معطل کرنے کی اپیل
پریس کانفرنس کے شرکا نے دعویٰ کیا کہ بعض رہائشیوں کو گھروں کی مسماری کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ان نوٹسز کو فوری معطل کرنے اور متعلقہ خاندانوں کے قانونی حقوق اور بحالی کے معاملات واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔
نمائندوں نے کہا کہ اپنی جمع پونجی سے گھر بنانے والے شہریوں کے معاملات کی انفرادی جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے شکایات کے فوری ازالے، غیر جانب دارانہ احتساب اور متاثرین کو مبینہ ہراسانی یا دباؤ سے تحفظ دینے پر بھی زور دیا۔
سوسائٹیوں کے انتخابات اور انتظامی امور میں شفافیت، عام ممبران کو مساوی نمائندگی اور متاثرہ شہریوں کے لیے یکساں قانون اور پالیسی بھی ان کے مطالبات میں شامل تھے۔
زیر زمین پانی کے لیے سروے کا مطالبہ
مقررین نے متاثرہ آبادیوں میں زیر زمین پانی کی سطح گرنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ رہائشیوں کو پانی کے حصول کے لیے پہلے سے زیادہ گہری بورنگ کرانا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے فوری ہائیڈرولوجیکل سروے، ٹیوب ویلز سے نکالے جانے والے پانی کی مقدار کی پیمائش اور زیر زمین ذخائر پر اس کے اثرات کے جائزے کا مطالبہ کیا۔ بارش کا پانی محفوظ کرنے اور ری چارج ویلز کے ذریعے زیر زمین پانی کی بحالی کے اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔
نمائندوں نے وزیراعظم، وزیر داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے اور محکمہ کوآپریٹو کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ پلاٹوں کے قبضے، بنیادی سہولتوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے واضح لائحہ عمل دیا جائے۔
پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ ان مخصوص شکایات پر سی ڈی اے، محکمہ کوآپریٹو اور متعلقہ سوسائٹیوں کی انتظامیہ کا مؤقف اس خبر کی تیاری تک دستیاب نہیں تھا۔
