تیار رہو۔۔۔ BE READY! برطانیہ میں خطرے کی گھنٹی بج گئی، شہریوں کو تین دن کا راشن، پانی اور نقد رقم گھر میں رکھنے کی ہدایت
تیار رہو۔۔۔ BE READY! برطانیہ میں خطرے کی گھنٹی بج گئی، شہریوں کو تین دن کا راشن، پانی اور نقد رقم گھر میں رکھنے کی ہدایت
لندن: برطانیہ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو غیر معمولی ہنگامی تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر گھر میں کم از کم تین دن یعنی 72 گھنٹے کی بنیادی ضروریات کا سامان موجود ہونا چاہیے۔ شہریوں کو پانی، ایسی خوراک جو جلد خراب نہ ہو، ضروری ادویات، نقد رقم، ٹارچ، اضافی بیٹریاں، ریڈیو اور موبائل فون چارج کرنے کے لیے پاور بینک رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکومت کی اس ہدایت نے یورپ کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورت حال، سائبر جنگ اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
برطانوی حکومت کے کیبنٹ آفس نے 22 اکتوبر 2026 کو ’’BE READY‘‘ کے نام سے تین سالہ قومی آگاہی مہم شروع کی۔ برطانوی پارلیمنٹ میں سکیورٹی منسٹر ڈین جاروس کے تحریری بیان میں بھی شہریوں کو ہنگامی حالات میں تین دن تک خود کفیل رہنے کی تیاری کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے 23 اکتوبر 2026 کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حکومت نے سائبر حملوں، شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلاتی آگ کے خطرات کے تناظر میں یہ مہم شروع کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ سافٹ ویئر سکیورٹی مسائل اور ہیکنگ کی لاکھوں کوششوں نے بھی قومی سطح پر ہنگامی تیاری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
برطانوی حکومت کی یہ مہم محض قدرتی آفات سے نمٹنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں دشمن ریاستوں کی سرگرمیاں، سائبر حملے، اہم قومی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے اور بنیادی شہری خدمات کے مفلوج ہونے جیسے خطرات بھی شامل ہیں۔ جدید دور کی جنگ میں اب ضروری نہیں کہ کسی ملک پر میزائل یا جنگی طیاروں سے حملہ کیا جائے، ایک بڑا سائبر حملہ بھی بینکاری، بجلی، مواصلات اور سرکاری نظام کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے بھی خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے سائبر حملوں کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دشمن ریاستوں، منظم جرائم پیشہ گروہوں اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کو اپنی تاریخ کے انتہائی سنگین خطراتی ماحول کا سامنا ہے۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی قیادت اب قومی سلامتی کو صرف روایتی فوجی دفاع کے تناظر میں نہیں دیکھ رہی بلکہ ڈیجیٹل اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو بھی دفاعی حکمت عملی کا حصہ بنا رہی ہے۔
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں تین دن کی خوراک اور پانی کا ذخیرہ رکھیں۔ اس کے علاوہ نقد رقم، بیٹری یا ہاتھ سے چلنے والا ریڈیو، ٹارچ، اضافی بیٹریاں، پاور بینک، ضروری ادویات، ابتدائی طبی امداد کا سامان، کمبل اور حفظان صحت کی اشیا بھی ہنگامی سامان میں شامل کی گئی ہیں۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ شہریوں کو تمام سامان ایک ساتھ خریدنے کی ضرورت نہیں بلکہ بتدریج اپنی تیاری مکمل کی جا سکتی ہے۔
برطانوی ہدایات کے مطابق ہر فرد کے لیے روزانہ تین لیٹر پینے کا پانی رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، یعنی تین دن کے لیے فی شخص کم از کم نو لیٹر پانی دستیاب ہونا چاہیے۔ کھانا پکانے اور صفائی کے لیے اضافی پانی کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ شہریوں کو ایسی خوراک رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے جو طویل عرصے تک محفوظ رہ سکے اور جسے پکانے یا فریج میں رکھنے کی ضرورت نہ ہو۔
اس مہم کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ کسی بڑے بحران میں امدادی اداروں کو ہر گھر تک فوری پہنچنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اگر بجلی، پانی، انٹرنیٹ یا ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہو جائے تو شہریوں کو ابتدائی 72 گھنٹے اپنی بنیادی ضروریات خود پوری کرنا پڑ سکتی ہیں۔
برطانوی حکومت کے پارلیمانی بیان کے مطابق صرف 13 فیصد شہری خود کو کسی ایسی ہنگامی صورت حال کے لیے تیار سمجھتے ہیں جس میں معمول کی ضروری خدمات متاثر ہو جائیں، جبکہ 84 فیصد شہریوں نے حکومت سے اس حوالے سے مزید معلومات اور رہنمائی کی ضرورت ظاہر کی ہے۔ حکومت نے اس مہم میں 500 سے زائد تنظیموں، کاروباری اداروں، فلاحی اداروں اور مقامی اداروں کو شامل کیا ہے۔
یورپ کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کی ہنگامی تیاری کی ہدایات پہلے سے موجود ہیں۔ فرانس، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز سمیت متعدد ممالک اپنے شہریوں کو کم از کم 72 گھنٹے کی بنیادی ضروریات کا سامان رکھنے کی ترغیب دے چکے ہیں۔ برطانیہ کی نئی مہم اسی یورپی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہے۔
تاہم اس پیش رفت کا سب سے اہم جغرافیائی سیاسی پہلو یہ ہے کہ مغربی ممالک اب اپنی شہری آبادی کو ایسے حالات کے لیے تیار کر رہے ہیں جن میں روزمرہ زندگی کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی، مشرق وسطیٰ کی جنگ، دشمن ریاستوں کے سائبر حملے اور عالمی سپلائی چین کے خطرات نے یورپی ممالک کے لیے قومی سلامتی کے نئے چیلنج پیدا کر دیے ہیں۔
کیا یورپ کسی بڑے عالمی بحران کے خدشے سے اپنی عوام کو پہلے ہی خبردار کر رہا ہے؟ کیا مستقبل کی جنگ میں میزائلوں اور جنگی طیاروں کے ساتھ ساتھ بجلی، بینکاری، انٹرنیٹ اور خوراک کی سپلائی بھی نشانہ بنے گی؟
یہ سوالات اب محض تجزیہ کاروں کی بحث نہیں رہے بلکہ یورپی حکومتوں کی عملی تیاریوں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ تاہم برطانوی حکومت نے اس مہم کو کسی فوری جنگ یا تیسری عالمی جنگ کی وارننگ قرار نہیں دیا۔ اس لیے اسے جنگ کے یقینی خطرے کے بجائے قومی سطح پر ہنگامی تیاری کی پالیسی سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے اب یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ جدید جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی؛ اس کا نشانہ کسی ملک کا بینکاری نظام، توانائی، مواصلات، خوراک کی سپلائی اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی بن سکتی ہے۔
