سکھر تا حیدرآباد موٹروے کی تعمیر اگلے ماہ شروع ہوگی، این ایچ اے کے انتظامی اخراجات 50 ارب روپے تک محدود کرنے کا فیصلہ
سکھر تا حیدرآباد موٹروے کی تعمیر اگلے ماہ شروع ہوگی، این ایچ اے کے انتظامی اخراجات 50 ارب روپے تک محدود کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (رپورٹ: حنیف صابر) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اعلان کیا ہے کہ سکھر تا حیدرآباد موٹروے کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز آئندہ ماہ کر دیا جائے گا، جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے انتظامی اخراجات 66 ارب روپے سے کم کرکے 50 ارب روپے تک محدود کیے جا رہے ہیں۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ این ایچ اے کی آمدن 66 ارب روپے سے بڑھا کر 160 ارب روپے تک لائی جا رہی ہے، جس سے ادارے کو مالی طور پر خود کفیل بنانے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انتظامی اخراجات میں کمی سے بچنے والے وسائل قومی شاہراہوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
عبدالعلیم خان نے بتایا کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 3 ہزار ارب روپے کی لاگت کے 66 بڑے انفراسٹرکچر منصوبے زیر غور ہیں، جن پر کام کیا جانا ہے۔ بلوچستان میں علاقائی ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے این ایچ اے کی مجموعی آمدن کا 70 فیصد حصہ صوبے کے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ این-25 شاہراہ کی تعمیر و توسیع بھی ترجیحات میں شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق سکھر تا حیدرآباد موٹروے منصوبے کے تین سیکٹرز کی منظوری دی جا چکی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے کراچی پورٹ تک موٹروے کے ذریعے براہ راست رسائی ممکن ہو سکے گی، جس سے تجارتی سرگرمیوں، مال برداری اور ملکی معیشت کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیصل آباد موٹروے کی توسیع پر کام جاری ہے اور اس منصوبے کے لیے سرکاری خزانے سے کوئی رقم خرچ نہیں کی گئی۔ سمبڑیال تا کھاریاں موٹروے کی تکمیل سے لاہور اور راولپنڈی، اسلام آباد کے درمیان سفر کا فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر کم ہو جائے گا اور مسافروں سمیت مال بردار گاڑیوں کا ایک گھنٹے سے زائد وقت بچے گا۔
عبدالعلیم خان نے مزید بتایا کہ لودھراں ایکسپریس وے این ایچ اے کے اپنے وسائل سے مکمل کی جائے گی۔ مری ایکسپریس وے کو آزاد کشمیر تک توسیع دینے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، جبکہ کاغان اور ناران سے آگے نئی موٹروے تعمیر کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد سیاحت کے فروغ کے ساتھ چین اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کو بہتر بنانا ہے۔
وفاقی وزیر نے تاجر برادری کے مسائل کے حل کے لیے این ایچ اے اور موٹروے پولیس کے حکام کو لاہور چیمبر کی قیادت کے ساتھ باقاعدگی سے مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے وزارت مواصلات میں تاجروں کے ساتھ رابطے کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے کی تجویز بھی دی اور یقین دہانی کرائی کہ کاروباری برادری کے مفادات کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے گی۔
اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں حسام اصغر نے وفاقی وزیر کی قیادت اور ترقیاتی وژن کو سراہا۔ سوال و جواب کی نشست میں عبدالعلیم خان نے موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر تیز رفتاری کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور انسانی جانوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب میں لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر، نائب صدر اور تاجر برادری کے دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔
