پاکستان پانڈا اور سمورائی بانڈز کے ذریعے مالی وسائل بڑھائے گا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مالی وسائل کے حصول کے ذرائع کو متنوع بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا، اس ضمن میں چینی کرنسی یوآن میں مزید بانڈز کے اجرا اور جاپانی مارکیٹ سے سمورائی بانڈز کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات بنکاک میں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر جاپانی جریدے نکی ایشیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ یہ اجلاس پیر ہی کو شروع ہوئے ہیں۔
پانڈا اور سمورائی بانڈز کے ذریعے فنڈز کا حصول
وزیر خزانہ نے کہا کہ حالیہ پانڈا بانڈ کا اجرا محض ایک مرتبہ کا اقدام نہیں بلکہ پاکستان چین کی کیپٹل مارکیٹ میں دوبارہ بھی آئے گا اور مستقبل میں مسلسل بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ چین دنیا کی دوسری بڑی اور گہری کیپٹل مارکیٹ ہے جس سے استفادہ کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کے حجم میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا تاہم فنڈز کے حصول کے ذرائع کو مزید متنوع بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے جن میں جاپانی کرنسی ین میں سمورائی بانڈز کا اجرا بھی شامل ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ سمورائی بانڈز کا اجرا پاکستان کے لیے موزوں ثابت ہو سکتا ہے اور اس امکان پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، تاہم اس ضمن میں مزید تیاری اور تحقیق کی ضرورت ہے۔
قومی ٹیرف پالیسی اور صنعتی مسابقت
وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی ٹیرف پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور یہ پالیسی صرف آٹو موبائل کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ تمام صنعتوں سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا، تاہم اس تحفظ کے خاتمے کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی تھی جو کہ معیشت کی شرح نمو 4 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، اس حکمت عملی پاکستان کے لیے موثر ثابت نہیں ہوئی۔ اب حکومت کا مقصد مقامی صنعت کو مسابقت کے قابل بنانا ہے، قومی ٹیرف پالیسی سے برآمدات میں اضافے میں مدد مل سکتی ہے، بالخصوص خام مال اور درمیانی درجے کی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
آسیان ماڈل اور معاشی اصلاحات
وزیر خزانہ نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے کے ممالک نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں درآمدی محصولات کم کیے جس سے انہیں مختلف شعبوں میں فوائد حاصل ہوئے، پاکستان کے لیے بھی یہ جنوب مشرقی ایشیا کی طرز پر معاشی ترقی اور صنعتی مسابقت کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان تمام چینی آٹو موبائل کمپنیوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہے اور اس سے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت میں بھی مدد مل رہی ہے، جبکہ پاکستان موسمیاتی مالیاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے پرعزم، سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے۔ موجودہ پروگرام میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا ایجنڈا شامل ہے جس کا مقصد ملکی معیشت کو پائیدار بنیاد پر استوار کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی، ڈبل بی ریٹنگ کا عزم رکھتا ہے اور پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کی معاونت سے نکل سکے گا جب دنیا کو یقین ہو جائے گا کہ اب پاکستان کو فوری مالی مدد کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔
