اسلام آباد میں 41 واں قومی مقابلہ حفظ و قرأت شروع

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزارتِ مذہبی امور کے زیر اہتمام 41 واں قومی مقابلہ برائے حفظ و قرأت بدھ سے شروع ہو رہا ہے، جس میں ملک بھر سے 56 حفاظ و قرا اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔ وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ان مقابلوں کے ابتدائی دو اہم مراحل ضلعی اور صوبائی سطح پر کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد اب فائنل مقابلہ اسلام آباد میں منعقد کیا جا رہا ہے۔
مقابلوں کی تفصیلات اور شرکاء
اس قومی سطح کے مقابلے میں چاروں صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے نامزد حفاظ و قرا شرکت کر رہے ہیں۔ جیسا کہ خیبر پختونخوا میں خوش آئند تبدیلی، دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رہے گی: عطاء اللہ تارڑ نے حکومت کے مثبت اقدامات کا ذکر کیا ہے، اسی طرح یہ مقابلہ نوجوانوں میں دینی رجحان کو مستحکم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ حفظ اور قرأت کے شعبوں میں بچوں، بچیوں اور نوجوانوں کی مجموعی طور پر دس مختلف کیٹیگریز بنائی گئی ہیں جن میں شرکاء کا مقابلہ ہوگا۔
مقصد اور مستقبل کے عزائم
ان مقابلوں کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کے اندر قرآنی تعلیمات کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنا اور حفظ و قرأت کے فن کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام کی ملاقات کے دوران بھی تعلیمی و سماجی ترقی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اسی تناظر میں، یہ مقابلے مستقبل کے معماروں کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ مزید برآں، ان مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے حفاظ و قرا کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان توانائی تحفظ کیلئے عالمی سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار پر مرکوز ہے، اسی طرح مذہبی اقدار کے فروغ کے لیے بھی یہ قومی سطح کی کاوشیں جاری و ساری ہیں۔ یہ دو روزہ مقابلہ 15 اکتوبر کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔
