پاکستان موسمیاتی مالیاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے پرعزم، سینیٹر محمد اورنگزیب

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وی 20 (V20) کے موسمیاتی مالیات کے ایجنڈے کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس پر موثر عملدرآمد اور مالیاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بین الاقوامی اجلاس میں شرکت اور موسمیاتی چیلنجز
انہوں نے یہ بات بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر منعقدہ 17ویں وی 20 وزارتی مکالمے میں شرکت کے موقع پر کہی۔ وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے کلائمیٹ پراسپیرٹی پلان کی تیاری اور موسمیاتی مالیات کے حصول کے لیے قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی نشاندہی میں وی 20 کے تعاون کو سراہا۔ ان حالات میں خیبر پختونخوا کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں، امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے، محسن نقوی جیسے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ملکی معاشی استحکام بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
مالیاتی گنجائش اور ماحول دوست سرمایہ کاری
مالیاتی ذمہ داری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز اور جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ملکی اور بیرونی مالیاتی گنجائش کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے ماحول دوست سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے مواقع اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کے پہلے گرین پانڈا بانڈ کا حوالہ دیا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں مختلف انتظامی امور پر توجہ مرکوز ہے، جیسا کہ حال ہی میں ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان نئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا تعینات کیے گئے ہیں۔
مشترکہ ذمہ داری اور عملی اقدامات
وزیر خزانہ نے مجوزہ فنڈ کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشترکہ ذمہ داری، جوابدہی اور موثر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیرِ خزانہ نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کی مثال دیتے ہوئے خبردار کیا کہ موسمیاتی اقدامات کو محض اعلانات اور وعدوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے موسمیاتی مالیات کے حوالے سے وی 20 کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ان مسائل کے حل کے لیے خیبر پختونخوا میں گورنر کی زیر صدارت 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے تاکہ انتظامی معاملات بہتر انداز میں چلائے جا سکیں۔
