مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 10 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $67,200 USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $67,200
بزنس

صنعتی ترقی اور کاروباری آسانیوں کیلئے لاہور چیمبر کے ساتھ کام کریں گے: ہارون اختر

📅 ہفتہ، 10 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
صنعتی ترقی اور کاروباری آسانیوں کیلئے لاہور چیمبر کے ساتھ کام کریں گے: ہارون اختر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) میں منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتی شعبے کو مضبوط بنانا، نئی سرمایہ کاری کا حصول، برآمدات میں اضافہ اور نجی شعبے کو سازگار کاروباری ماحول کی فراہمی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت صنعتی ترقی کو فروغ دینے، کاروباری آسانیوں میں اضافہ کرنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور غیر ضروری رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کاروباری برادری کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ راولپنڈی چیمبر کا انتظامیہ کے ساتھ کاروباری سہولیات پر اتفاق کے طرز پر حکومت لاہور چیمبر کے ساتھ بھی روابط کو فروغ دے رہی ہے۔

کاروباری برادری کا ملکی معیشت میں کردار

ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لہذا ایسی پالیسیاں تشکیل دی جانی چاہئیں جو نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کریں بلکہ صنعت و تجارت کی ترقی کے لیے بھی معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت صنعتی پالیسی اور ریگولیٹری اصلاحات پر تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ تاجروں کو ہراسانی، غیر ضروری انسپکشن اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرکاری کارروائیوں سے تحفظ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کاروباری معاملات میں ایف آئی آر کے غیر ضروری اندراج اور کاروباری اکاؤنٹس منجمد کرنے جیسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے، اور قانونی کارروائیوں میں شفافیت اور درست طریقہ کار کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور کاروباری ترقی کا توازن

وزیراعظم کے مشیر نے زور دیا کہ سرکاری اداروں کو کاروباری برادری کے ساتھ تعاون پر مبنی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور دیگر متعلقہ اداروں کو محصولات کی وصولی کے ساتھ ساتھ کاروباری ترقی کی اہمیت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کیونکہ ایک مستحکم کاروباری شعبہ ہی روزگار کی فراہمی، سرمایہ کاری میں اضافے اور قومی معیشت کے استحکام کا ضامن ہے۔ LCCI کے صدر علی حسام اصغر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگرچہ تاجر برادری ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، مگر سرکاری محکموں کے صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال سے صنعت کاروں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے وفد کی حمزہ شہباز سے ملاقات کے تناظر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور تاجروں کے مابین رابطوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاہور چیمبر قانون کی بالادستی کے خلاف نہیں، تاہم معمولی خلاف ورزیوں پر ایف آئی آر کا اندراج صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اصلاحی اقدامات کی تجاویز

علی حسام اصغر نے تجویز پیش کی کہ معمولی خلاف ورزیوں پر ایف آئی آر کے بجائے جرمانے عائد کیے جائیں یا اصلاحی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے ماحولیاتی تعمیل کے مسائل پر کاروباری اداروں کو پیشگی نوٹس دینے کا مطالبہ کیا تاکہ انہیں اپنی خامیاں دور کرنے کا مناسب وقت مل سکے۔ اس موقع پر LCCI کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کہا کہ پالیسی سازی میں نجی شعبے کی مشاورت اشد ضروری ہے۔ ٹولنٹن مارکیٹ واقعہ پر لاہور چیمبر کا گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروباری راہ میں حائل رکاوٹوں کو فی الفور ہٹایا جائے۔ اجلاس میں سابق صدور اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور قومی معیشت کی بحالی کے لیے متفقہ لائحہ عمل پر زور دیا۔

ٹیگز: #صنعتی ترقی #کاروباری آسانیاں #لاہور چیمبر #معاشی پالیسی #ہارون اختر خان
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں