وزیراعظم شہباز شریف کی این ایچ اے منصوبوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منگل کے روز نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے تمام جاری منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ قومی شاہراہوں، موٹرویز اور ایکسپریس ویز کی تعمیر کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) موڈ کے تحت جامع حکمت عملی مرتب کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں این ایچ اے کے امور پر منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے این ایچ اے کے جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ٹرانسپورٹ کنیکٹیویٹی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر دور دراز علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے پر کام کر رہی ہے تاکہ وہاں کے عوام کو بہترین سفری سہولیات میسر آئیں اور کاروبار و روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ اجلاس کو این ایچ اے کے جاری اور مجوزہ منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ این ایچ اے کی آمدنی گزشتہ مالی سال میں 109 ارب روپے سے بڑھ کر 130 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے اور موجودہ مالی سال کے دوران اس کے 160 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ فورم کو آگاہ کیا گیا کہ این ایچ اے اپنے ریونیو سے متعدد منصوبوں کی فنڈنگ کر رہا ہے۔ ان میں سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے (M-12)، کھاریاں-راولپنڈی موٹروے (M-13)، پشاور ناردرن بائی پاس، جگلوٹ-سکردو روڈ (S-1) کی بحالی، پنڈی بھٹیاں-فیصل آباد موٹروے (M-4) کی اپ گریڈیشن، این-5 ملتان-لودھراں سیکشن کی اپ گریڈیشن اور لیہ-تونسہ پل کے لیے اپروچ روڈز کی تعمیر نمایاں ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان ایکسپریس وے (N-25) پر کام تیزی سے جاری ہے۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ 16 منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور جلد افتتاح کے لیے تیار ہوں گے۔ ان میں جی ٹی روڈ (N-5) کی ٹی-چوک اسلام آباد سے بھانت تک اپ گریڈیشن، جی ٹی روڈ پر اسلام آباد چنگی نمبر 26 انٹرچینج کی ری ماڈلنگ، مارگلہ ایونیو ایکسٹینشن (جی ٹی روڈ سے موٹروے M-1 تک)، پنڈی بھٹیاں-فیصل آباد موٹروے (M-4) کی اپ گریڈیشن، کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس، پنڈی گھیب-جنڈ روڈ، ملتان-سکھر موٹروے (M-5) پر بھونگ انٹرچینج، نوکنڈی-ماشکیل روڈ کی تعمیر، پرانی بنوں روڈ کی دو رویہ تعمیر، انڈس ہائی وے (N-55) کے سان-سیہون سیکشن اور رتوڈیرو-شکارپور سیکشن کو دو رویہ کرنا، اور انڈس ہائی وے (N-55) کے پیٹارو-سیہون سیکشن پر اضافی کیریج وے شامل ہیں۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ جلد ہی متعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ ان میں کھاریاں-راولپنڈی موٹروے (M-13)، سکھر-حیدرآباد موٹروے (M-6)، جی ٹی روڈ (N-5) نوشہرہ-پشاور کی بحالی، جی ٹی روڈ (N-5) راولپنڈی-حسن ابدال کی تعمیر نو، نیشنل ہائی وے (N-5) مورو-ہالہ سیکشن کی بحالی اور N-5 رانی پور-روہڑی سیکشن کی تعمیر نو شامل ہیں۔ فورم کو بتایا گیا کہ سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے اور کھاریاں-راولپنڈی موٹروے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں گرو نانک ایکسپریس وے پر بھی بریفنگ دی گئی جو کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو ملائے گا اور سکھ مذہب کے مقدس مقامات کو جوڑے گا۔ مانسہرہ سے چلاس براستہ ناران ایک ایکسپریس وے بھی تجویز کیا گیا ہے، جس سے دونوں مقامات کے درمیان فاصلہ 146 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر مواصلات و ڈاک خدمات عبد العلیم خان، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ یاد رہے کہ حکومت ملک میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مسلسل کوشاں ہے، جیسا کہ اساتذہ قومی ترقی کی بنیاد رکھتے ہیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ویژن کے مطابق تعلیمی اور مواصلاتی رابطوں کو فروغ دینا اولین ترجیح ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کا ڈی آئی خان آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین بھی پیش کیا جا چکا ہے، جبکہ حکومت قومی امور پر مکمل توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے، جس کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی وزیر محسن نقوی سے تعزیت کا اظہار کے موقع پر بھی دیکھا گیا۔
