وزیراعظم شہباز شریف کی صومالیہ سے پاکستانیوں کی فوری واپسی کی ہدایت

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر صومالیہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے پاکستانی شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے گئے ہیں۔
ایک ترجمان کے مطابق، صومالیہ میں پیش آنے والے واقعے کے بعد زخمی ہونے والے چار پاکستانی شہریوں جن میں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان شامل ہیں، کو ایتھوپین ایئر لائنز کی پرواز ای ٹی-694 کے ذریعے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعے میں جاں بحق ہونے والے تین پاکستانیوں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کی میتیں بھی اسی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچائی گئی ہیں۔ مذکورہ پرواز اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 40 منٹ پر کراچی ایئرپورٹ پر پہنچی۔
سفارتی سطح پر انتظامات
ایتھوپیا میں تعینات پاکستان کے سفیر عاطف عزیز اور جبوتی میں تعینات پاکستانی سفیر اقصیٰ نواز نے ادیس ابابا ایئرپورٹ پر زخمی شہریوں اور جاں بحق افراد کی میتوں کو رخصت کیا۔ اس تمام تر عمل کے دوران جس طرح پاکستان نے جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا؛ عالمی امن کے لیے مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا حل ناگزیر ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کیا، اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حفاظت بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم کی مسلسل نگرانی
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس پورے عمل کی ذاتی نگرانی کی تاکہ زخمیوں کی فوری طبی امداد اور جاں بحق افراد کی میتوں کی باعزت واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک کو بدنام کرنے، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر اور معیشت کو نقصان پہنچانے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ڈی جی این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی کی ہدایت کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر سفارتی وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ٹی برآمدات میں 25 ارب ڈالر ہدف کےلئے پرعزم ،نوجوان اور خواتین ٹیلنٹ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،شزہ فاطمہ خواجہ جیسے قومی اہداف کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کی فلاح و بہبود بھی حکومتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
