فکسڈ ٹیکس سکیم کی شرح میں کمی اور مدت بڑھانے کا مطالبہ
لاہور (نمائندہ خصوصی) لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے وفد نے ریجنل ٹیکس آفس-I لاہور کی چیف کمشنر آمنہ فیض بھٹی سے ملاقات کی جس میں تاجروں کے مسائل اور فکسڈ ٹیکس سکیم 2026ء کے نفاذ کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کی گئیں۔
فکسڈ ٹیکس سکیم کا خیرمقدم
لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر رانا ثاقب منیر، نائب صدر میاں عثمان جاوید، جنرل سیکرٹری فاروق گجر، جوائنٹ سیکرٹری علی رضا چیمہ اور فنانس سیکرٹری سعد ایوب خان نے فکسڈ ٹیکس سکیم 2026ء کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ٹیکس نیٹ کی وسعت کے لیے ایک خوش آئند قدم قرار دیا۔ اس موقع پر، جس طرح نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ سیاسی جماعت، نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اب یہاں بھی صادق خان اور ممدانی آئیں گے،محسن نقوی نے انتظامی بہتری پر زور دیا تھا، اسی طرح ٹیکس بار نے بھی ٹیکس اصلاحات کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ٹیکس شرح میں کمی اور طویل المدتی منصوبہ بندی
بار کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ 100 ملین روپے تک کے سالانہ ٹرن اوور پر عائد ایک فیصد ٹیکس کی شرح کافی زیادہ ہے، جسے کم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سکیم کی مدت ایک سال سے بڑھا کر کم از کم پانچ سال مقرر کی جائے تاکہ تاجر طویل المدتی مالی و کاروباری منصوبہ بندی کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی دوغلی پالیسی پر چل رہی ہے، سرائیکی صوبہ کی حامی، سندھ کی تقسیم پر سندھو دیش کی بات، خواجہ آصف جیسے معاملات پر سیاسی اتفاق رائے درکار ہے، اسی طرح ٹیکس پالیسیوں میں تسلسل سے تاجروں کا اعتماد بڑھے گا اور رضاکارانہ شمولیت کو فروغ ملے گا۔
آگاہی مہم اور ایف بی آر کے ساتھ تعاون
عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ سکیم کو کامیاب بنانے کے لیے ملک گیر میڈیا اور سوشل میڈیا پر آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے۔ لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن ایف بی آر کے ساتھ مل کر تاجروں کو سکیم کے طریق کار اور فوائد سے آگاہ کرنے کے لیے بھرپور تعاون کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے افراد جن کے پاس دیگر ذرائع سے بھی آمدن ہے، انہیں قوانین کے تحت فکسڈ ٹیکس سکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی مختلف شعبوں میں بہتری کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں کی گئی ہیں جیسے کہ راولپنڈی میں ریس کورس پارک اور چیرنگ کراس انڈر پاسز پر کام کل سے شروع کر دیا گیا ہے، اسی طرح معاشی بہتری کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
