میٹرک پاس تمام طلبہ کے لیے دو سالہ ٹیکنیکل ڈپلومہ لازمی قرار دیا جائے: رمضان میو

میٹرک پاس تمام طلبہ کے لیے دو سالہ ٹیکنیکل ڈپلومہ لازمی قرار دیا جائے: رمضان میو
لاہور: ہیلپ پور وومن اینڈ چائلڈ آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز پنجاب کے نائب صدر رمضان میو کی زیرِ قیادت مین فیروزپور روڈ، جنرل ہسپتال کے بالمقابل احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں مقبول حسین، جوائنٹ سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز لاہور، ماسٹر ساجد حسین اور دیگر افراد نے شرکت کی۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رمضان میو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میٹرک پاس تمام طلبہ کے لیے دو سالہ ٹیکنیکل ڈپلومہ پروگرام شروع کیا جائے، جس میں پیرامیڈیکل، الیکٹریکل، آئی ٹی، انجینئرنگ اور دیگر اہم تکنیکی شعبوں کو شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں لاکھوں طلبہ میٹرک کے بعد مالی مشکلات کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے، اس لیے حکومت میٹرک پاس نوجوانوں کو ٹیکنیکل اداروں میں داخلہ دے کر دو سالہ ڈپلومہ مکمل کروائے اور اسے ایف ایس سی کے مساوی تعلیمی حیثیت دینے پر غور کرے۔
رمضان میو نے کہا کہ اس اقدام سے نوجوانوں کو ہنر اور عملی فنی تربیت حاصل ہوگی جبکہ ان کی تعلیمی قابلیت بھی بہتر ہوگی۔ پاکستان کی ترقی کے لیے صرف ڈگری ہولڈرز ہی نہیں بلکہ ہنرمند، باصلاحیت اور تربیت یافتہ ٹیکنیکل افرادی قوت تیار کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ میٹرک پاس طلبہ کو متعلقہ ٹیکنیکل اداروں میں داخلہ دے کر ایسے پروگرام کا حصہ بنایا جائے جس کے ذریعے انہیں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کے ساتھ ساتھ عملی فنی تربیت بھی فراہم کی جا سکے۔ اس سے روزگار کے مواقع میں اضافہ، بے روزگاری میں کمی اور ملک میں ٹیکنیکل افرادی قوت کی تعداد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
رمضان میو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے ٹیکنیکل اداروں کو فوری ہدایات جاری کی جائیں اور میٹرک پاس نوجوانوں کے لیے دو سالہ ٹیکنیکل ڈپلومہ پروگرام شروع کیا جائے تاکہ پاکستان میں ایک مضبوط، ہنرمند، باصلاحیت اور خود کفیل نوجوان نسل تیار کی جا سکے۔
