مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
بدھ، 7 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.74 EUR/PKR 311.39 GBP/PKR 367.04 سونا/تولہ 424,825 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,355 USD/PKR 276.74 EUR/PKR 311.39 GBP/PKR 367.04 سونا/تولہ 424,825 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,355
قومی

پی سی بی کا اسکائی اسپورٹس سے عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو پر احتجاج، لارڈز ٹیسٹ کے دوران نشریات نے تنازع کھڑا کردیا

📅 جمعہ، 28 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 7 منٹ
پی سی بی کا اسکائی اسپورٹس سے عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو پر احتجاج، لارڈز ٹیسٹ کے دوران نشریات نے تنازع کھڑا کردیا
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

پی سی بی کا اسکائی اسپورٹس سے عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو پر احتجاج، لارڈز ٹیسٹ کے دوران نشریات نے تنازع کھڑا کردیا

لندن: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق وزیراعظم اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کے معروف سابق انگلش کپتان اور اسکائی اسپورٹس کے کمنٹیٹر مائیکل ایتھرٹن کے ساتھ انٹرویو نشر کیے جانے پر شدید احتجاج کیا ہے، جس کے باعث پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے دوران ایک نیا تنازع پیدا ہوگیا۔

تقریباً 18 منٹ پر مشتمل انٹرویو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز لنچ کے وقفے کے دوران اسکائی اسپورٹس پر نشر کیا گیا۔ انٹرویو میں عمران خان کی صحت، جیل میں ان کے حالات اور خاندان کو درپیش مشکلات کے بارے میں گفتگو کی گئی، جس پر پی سی بی نے اعتراض اٹھایا کہ ٹیسٹ میچ کی براہ راست کوریج کے دوران سیاسی نوعیت کا مواد نشر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے اسکائی اسپورٹس سے رابطہ کرکے انٹرویو نشر نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب اطلاعات سامنے آئیں کہ بورڈ نے مبینہ طور پر اسکائی اسپورٹس کو متنبہ کیا کہ انٹرویو نشر ہونے کی صورت میں پاکستان ٹیم کے لنچ کے بعد میدان میں واپس آنے کے معاملے پر سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

اس صورتحال کے باعث انٹرویو کی نشریات کچھ دیر کے لیے مؤخر بھی ہوئیں، تاہم بعد ازاں اسکائی اسپورٹس نے اسے نشر کردیا۔ پاکستان کی ٹیم نے بھی لنچ کے بعد میدان میں واپسی کا فیصلہ کیا اور میچ جاری رہا، جس کے بعد فوری طور پر پیدا ہونے والا بحران ٹل گیا، تاہم پی سی بی کی شکایت برقرار رہی۔

رپورٹس کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے بھی فریقین کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے اور ٹیسٹ میچ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے رابطہ کیا۔ یوں معاملہ میچ کے بائیکاٹ یا پاکستان ٹیم کے میدان سے مستقل طور پر باہر رہنے تک نہیں پہنچا اور کھیل معمول کے مطابق جاری رہا۔

تنازع کا پس منظر یہ تھا کہ مائیکل ایتھرٹن نے لارڈز میں عمران خان کے دونوں بیٹوں کا انٹرویو کیا تھا۔ انٹرویو کو اس وقت غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی جب اس میں کرکٹ کے بجائے عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کے حالات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

سلیمان خان نے انٹرویو میں کہا کہ خاندان عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے ان کے والد کی ایک آنکھ کی بینائی کے مسئلے پر خاندان فکرمند ہے، جبکہ بلڈ پریشر اور مجموعی صحت کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں۔

سلیمان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو طویل عرصے سے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں وہ طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں جن کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خاندان کی خواہش ہے کہ عمران خان کا معائنہ آزاد اور غیر جانب دار ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔

انہوں نے حالیہ عدالتی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خاندان کو توقع تھی کہ عمران خان کو ایک نجی اسپتال منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ ہوگا، تاہم ان کے بقول انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا اور معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔

سلیمان خان نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنے والد کی جان کے حوالے سے شدید خدشات ہیں اور الزام عائد کیا کہ عمران خان کو جیل میں خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ الزامات سلیمان خان کے دعوے ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

انٹرویو کے دوران عمران خان کے بیٹوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے والد سے بالمشافہ ملاقات کے خواہش مند ہیں اور ان کے مطابق طویل عرصے سے ملاقات اور رابطے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

مائیکل ایتھرٹن نے یہ سوال بھی کیا کہ عمران خان کے سیاست میں آنے کے فیصلے پر کیا ان کے بیٹوں کو کبھی افسوس ہوا کہ ان کے والد کرکٹ کے بعد ایک نسبتاً آرام دہ زندگی گزار سکتے تھے۔

سلیمان خان نے جواب دیا کہ انہیں اپنے والد کے سیاست میں آنے پر افسوس نہیں۔ ان کے مطابق عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ پاکستان میں کرپشن کے خاتمے، غربت میں کمی اور ملک کو بہتر بنانے کے مقصد سے کیا تھا۔ سلیمان نے کہا کہ اگرچہ وہ اپنے والد کو اپنے ساتھ ایک معمول کی زندگی گزارتے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ان کی سیاسی جدوجہد کو قابل احترام سمجھتے ہیں۔

ایتھرٹن نے پاکستان کے سابق کرکٹرز کی جانب سے عمران خان کے معاملے پر نسبتاً خاموشی کے بارے میں بھی سوال کیا۔ سلیمان نے کہا کہ وہ سابق پاکستانی کھلاڑیوں کی صورتحال کو سمجھتے ہیں اور موجودہ حالات میں ان کے لیے سیاسی معاملات پر کھل کر بات کرنا آسان نہیں۔

گفتگو کے اختتام پر ایتھرٹن نے دونوں بھائیوں سے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز ٹیسٹ میں پسندیدہ ٹیم کے بارے میں سوال کیا تو سلیمان اور قاسم دونوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کی حمایت کریں گے۔

یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا جب عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کے حالات کا معاملہ ایک مرتبہ پھر ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا میں بھی زیر بحث ہے۔ اسکائی اسپورٹس پر انٹرویو کی نشریات اور اس پر پی سی بی کے احتجاج نے اس معاملے کو کرکٹ کے میدان سے نکال کر ایک وسیع سیاسی اور میڈیا تنازع میں تبدیل کردیا۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں