شام کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا تاریخی دورہ، دوطرفہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز

شام کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا تاریخی دورہ، دوطرفہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز
اسلام آباد: شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کا پاکستان کا حالیہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک نئے اور زیادہ فعال مرحلے میں داخل کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دمشق خطے میں اپنے سفارتی تعلقات کی ازسرنو تشکیل اور سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی شراکت داری کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
شامی خبر رساں ادارے سریا عرب نیوز ایجنسی کے مطابق اسعد حسن الشیبانی اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں پاکستان اور شام کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ دورہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے اور ملک میں نئی سیاسی صورت حال کے بعد دمشق اپنی خارجہ پالیسی میں نئے علاقائی اور عالمی روابط قائم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ پاکستان نے شام کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں امن، استحکام اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دورے کے دوران پاکستان نے مقبوضہ گولان کے معاملے پر شام کے اصولی مؤقف کی بھی حمایت کی۔ اسلام آباد نے ادلب کے ابو الظہور ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ مؤقف پاکستان کی اس دیرینہ خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ مقبوضہ علاقوں میں طاقت کے استعمال اور ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مخالفت کرتا ہے۔
شامی وزیر خارجہ نے پاکستان کے علاقائی کردار کو بھی سراہا، خصوصاً سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ سمیت مسلم ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اہم قرار دیا۔ الشیبانی نے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر بھی خیرمقدم کا اظہار کیا، جسے خطے میں دفاعی تعاون اور اجتماعی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان اور شام کے درمیان اقتصادی تعلقات کے فروغ کے امکانات بھی دورے کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے کے لیے اسلام آباد یا دمشق میں سرمایہ کاری فورم منعقد کرنے کی تجویز پر بات ہوئی۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے نجی شعبے، سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو براہ راست روابط کا موقع فراہم کرنا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط بڑھانے کے لیے براہ راست فضائی رابطوں کی بحالی بھی زیر بحث آئی۔ براہ راست پروازوں کی بحالی سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سفر آسان ہوگا بلکہ تجارت، سیاحت، تعلیم اور عوامی سطح پر روابط میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس دورے کا ایک اہم پہلو علاقائی سفارت کاری بھی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے پرامن حل اور مختلف فریقوں کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اسی تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگر اسلام آباد مستقبل میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے یا کشیدگی میں کمی کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کرتا ہے تو شام سمیت پورے خطے کے لیے اس کے وسیع اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

شامی مشیر محمد الجفال کے مطابق وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ ایک ایسے حساس وقت میں ہوا ہے جب دمشق اور اسلام آباد کے تعلقات تعاون کے نئے مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق شام ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو علاقائی استحکام کے لیے خصوصی اہمیت دیتا ہے۔
پاکستان اور شام کے تعلقات تاریخی، سیاسی اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ پاکستان نے شام کے ساتھ مختلف مشکل ادوار میں سفارتی رابطہ برقرار رکھا اور شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی حمایت کی۔ اب نئی شامی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج جنگ سے متاثرہ ملک کی تعمیر نو، معیشت کی بحالی، اداروں کو مضبوط بنانا اور عالمی و علاقائی سطح پر دوبارہ فعال کردار حاصل کرنا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان شام کے لیے ایک اہم شراکت دار ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے پاس تعمیرات، انفرااسٹرکچر، زراعت، ادویات، ٹیکسٹائل، دفاعی پیداوار، تعلیم اور افرادی قوت کے شعبوں میں تجربہ موجود ہے۔ شام کی تعمیر نو کے مرحلے میں ان شعبوں میں پاکستانی کمپنیوں اور اداروں کے لیے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب شام پاکستان کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم سفارتی اور اقتصادی رابطہ بن سکتا ہے۔ شام کا جغرافیائی محل وقوع اسے بحیرہ روم، ترکیہ، خلیجی خطے اور عرب دنیا کے درمیان ایک اہم مقام فراہم کرتا ہے۔ اگر شام میں سیاسی اور سکیورٹی استحکام پیدا ہوتا ہے تو مستقبل میں پاکستان کے لیے شام کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور بحیرہ روم کی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
دفاعی اور سکیورٹی تعاون بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم شعبہ بن سکتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، سرحدی سکیورٹی، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی تربیت کے شعبوں میں پاکستان کا تجربہ شام کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم اس نوعیت کے تعاون کے لیے خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور شام کے اندرونی سیاسی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
مجموعی طور پر اسعد حسن الشیبانی کا پاکستان کا دورہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں شام کی نئی خارجہ پالیسی اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی سفارتی کردار کا مظہر ہے۔ دمشق اگر ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے ساتھ بیک وقت مضبوط روابط قائم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ شامی خارجہ پالیسی کو ایک نئی علاقائی سمت دے سکتا ہے۔
اسلام آباد کے لیے بھی یہ موقع اہم ہے کہ وہ شام کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو محض سیاسی حمایت تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری، تعمیر نو، تعلیم، دفاع اور عوامی روابط کی بنیاد پر ایک جامع اور طویل المدتی شراکت داری میں تبدیل کرے۔ موجودہ علاقائی حالات میں پاکستان اور شام کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دونوں ملکوں کے لیے باہمی مفاد کے ساتھ ساتھ وسیع تر علاقائی استحکام میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔
