مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,214 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,037 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,214 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,037
کھیل

فیفا ورلڈ کپ 2026: فٹبال میدان سے سوشل میڈیا تک نسلی نفرت

📅 جمعرات، 20 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

زوریخ (نمائندہ خصوصی)۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 نے جہاں دنیا بھر کے شائقین کو فٹبال کے سنسنی خیز مقابلے، غیر معمولی کارکردگی اور یادگار لمحات فراہم کیے، وہیں ٹورنامنٹ کے دوران سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں کے خلاف نفرت انگیز، نسلی اور امتیازی رویوں نے کھیل کی دنیا کو ایک مرتبہ پھر تشویش میں مبتلا کر دیا۔ فیفا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے دوران 60 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا پوسٹس اور کمنٹس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 89 ہزار پوسٹس یا کمنٹس کو توہین آمیز قرار دے کر کارروائی کی گئی۔ ان میں تقریباً 11 فیصد مواد نسلی تعصب پر مبنی تھا۔

سوشل میڈیا: فٹبال کا نیا میدانِ جنگ

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید فٹبال کا میدان اب صرف اسٹیڈیم تک محدود نہیں رہا۔ میچ ختم ہونے کے بعد کھلاڑیوں کو ایک دوسرے میدان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور وہ میدان سوشل میڈیا ہے، جہاں ایک نفرت انگیز پوسٹ چند سیکنڈ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ فیفا کے سوشل میڈیا پروٹیکشن سروس کے مطابق ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں 60 لاکھ سے زائد پوسٹس اور کمنٹس اسکین کیے گئے، جبکہ 2 لاکھ 25 ہزار مواد کو انسانی جائزے کے لیے بھیجا گیا۔ تفصیلی جانچ کے بعد 89 ہزار پوسٹس یا کمنٹس کو قابلِ اعتراض قرار دیا گیا اور تقریباً ایک ہزار اکاؤنٹس کو مزید تحقیقات کے لیے شناخت کیا گیا۔ اس کے علاوہ 1 لاکھ 81 ہزار نفرت انگیز کمنٹس کو چھپا دیا گیا تاکہ کھلاڑیوں، ٹیموں اور ان کے مداحوں کو براہِ راست اس زہریلے مواد کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آن لائن نفرت کے خلاف اقدامات خاص طور پر نسلی تعصب کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی تشویشناک ہے۔ فیفا کے مطابق 2026 کے گروپ مرحلے میں نسلی بنیاد پر ہونے والی بدسلوکی مجموعی آن لائن بدسلوکی کا 11 فیصد رہی، جو 2022 کے اسی مرحلے کے مقابلے میں اضافہ ہے۔ اگرچہ 2026 کا ورلڈ کپ 48 ٹیموں پر مشتمل تھا، جبکہ 2022 میں 32 ٹیمیں شریک تھیں، پھر بھی اعداد و شمار یہ واضح کرتے ہیں کہ آن لائن نفرت کو روکنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انگلینڈ کے کھلاڑی بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں رہے۔ انگلش فٹبال ایسوسی ایشن نے ورلڈ کپ سے قبل ہی ایک خصوصی پروگرام شروع کیا تھا، جس کا مقصد انگلینڈ کے کھلاڑیوں اور ان کے خاندانوں کو آن لائن نفرت، دھمکیوں، ہراسانی اور امتیازی مواد سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس پروگرام میں فٹبال ایسوسی ایشن، یو کے فٹبال پولیس یونٹ اور آفکام شامل تھے۔ انگلینڈ کے مسلمان فٹبالر ڈیجڈ اسپینس کی مثال بھی اس حوالے سے اہم ہے۔ وہ انگلینڈ کی سینئر مردوں کی ٹیم کے لیے کھیلنے والے پہلے مسلمان کھلاڑی ہیں، اور ورلڈ کپ 2026 کے دوران ان کی موجودگی نے برطانیہ کی مسلم کمیونٹی میں نمائندگی اور حوصلے کے حوالے سے مثبت بحث کو جنم دیا۔ تاہم ان کی مذہبی شناخت بھی آن لائن تعصب اور اسلاموفوبیا کے خدشات سے جڑی بحث کا حصہ بنی۔

سیاہ فام کھلاڑیوں کی مشکلات اور الگورتھمز کا کردار

یہ مسئلہ صرف انگلینڈ یا کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ ماضی میں جوڈ بیلنگھم، بوکایو ساکا، مارکس ریشفورڈ اور دیگر سیاہ فام کھلاڑی بھی سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ یورپی فٹبال میں اس مسئلے کی شدت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب بڑے ٹورنامنٹس کے بعد کھلاڑیوں کو شکست یا ناقص کارکردگی کے لیے تنقید کے بجائے ان کی نسل، رنگ یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ یہاں ایک اہم پہلو سوشل میڈیا کے الگورتھمز اور مواد کی تیز تر تقسیم کا بھی ہے۔ اگرچہ ہر نفرت انگیز مواد کے وائرل ہونے کو محض الگورتھم یا تجارتی منافع سے جوڑنا درست نہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیادہ ردعمل حاصل کرنے والا مواد تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اسی لیے نفرت انگیز مواد کی بروقت شناخت، انسانی نگرانی اور فوری کارروائی انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔ فیفا کا کہنا ہے کہ اس نے 2022 کے ورلڈ کپ کے بعد سوشل میڈیا پروٹیکشن سروس کے ذریعے بڑے پیمانے پر آن لائن بدسلوکی کے خلاف کارروائی کی ہے، جبکہ 2026 کے ٹورنامنٹ میں مصنوعی ذہانت اور انسانی ماہرین کی مدد سے نگرانی مزید وسیع کی گئی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ فٹبال کو صرف کھیل نہیں بلکہ اتحاد، برداشت اور انسانیت کی علامت سمجھا جائے۔ کسی کھلاڑی کی جلد کا رنگ، مذہب، نسل یا خاندانی پس منظر اس کی کھیل کی صلاحیت کا معیار نہیں ہو سکتا۔ شکست پر تنقید کی جا سکتی ہے، خراب کارکردگی پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، لیکن نفرت، نسل پرستی اور مذہبی تعصب کو کسی صورت کھیل کا حصہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ فٹبال دنیا کو جوڑنے کا کھیل ہے؛ اگر سوشل میڈیا اسے نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنا دے تو مسئلہ صرف کھلاڑیوں کا نہیں، پوری معاشرتی سوچ کا ہے۔ اب فیفا، فٹبال ایسوسی ایشنز، سوشل میڈیا کمپنیوں اور عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر ایسا ڈیجیٹل ماحول بنانا ہوگا جہاں کھلاڑی میدان میں اپنی صلاحیت سے مقابلہ کریں، نہ کہ میدان سے باہر نسل اور شناخت کی بنیاد پر نفرت کا سامنا کریں۔

ٹیگز: #آن لائن تحفظ #سوشل میڈیا #فٹبال #فیفا ورلڈ کپ 2026 #نسل پرستی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں