مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,214 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,037 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,214 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,037
عالمی

امریکہ کینیڈا تجارتی کشیدگی، ٹرمپ کا پچاس فیصد ٹیرف عارضی معطل

📅 جمعرات، 20 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ عالمی معاشی و تجارتی افق پر ایک اہم اور بڑی پیشرفت کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے آنے والی مختلف مصنوعات، بالخصوص بیئر، چیز (پنیر) اور دیگر اشیاء پر عائد کیے جانے والے 50 فیصد تک بھاری نجی ٹیرف کے فیصلے کو فی الوقت عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ اہم اعلان ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب دونوں پڑوسی اور قریبی تجارتی شراکت دار ممالک کے درمیان معاشی کشیدگی اور تجارتی حربے ایک خطرناک حد تک پہنچ چکے تھے۔ ایران کے خلاف معاشی کارروائی کی طرح یہ اقدام بھی عالمی سطح پر زیر بحث ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے گزشتہ ماہ کینیڈین مصنوعات پر ان نئے اور اضافی ٹیرف کا اعلان کیا گیا تھا، جن کا نفاذ بدھ کی رات بارہ بج کر ایک منٹ (12:01 AM) سے باقاعدہ طور پر ہونا طے تھا۔ اس فیصلے سے امریکی اور کینیڈین مارکیٹ میں شدید بے چینی پھیل گئی تھی اور سرحد کے دونوں جانب صنعت کار اور تاجر شدید تشویش کا شکار تھے۔ تاہم، ان تادیبی ٹیرف کے باضابطہ نفاذ میں دو گھنٹے سے بھی کم وقت باقی تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر ایک ہنگامی پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ان عائد کردہ لیویز اور ٹیرف کو اگلے تین دنوں کے لیے روک رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ایک حتمی اور پائیدار تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

تجارتی اثرات اور معاشی خدشات

تجارتی و معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 50 فیصد کا یہ بھاری ٹیرف نافذ العمل ہو جاتا تو اس سے نہ صرف امریکہ اور کینیڈا کے اربوں ڈالر کے باہمی تجارتی تعلقات کو شدید نقصان پہنچتا بلکہ دونوں ممالک میں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں بھی اچانک بڑا اضافہ دیکھنے کو ملتا۔ خاص طور پر کینیڈین زراعت، ڈائری پروڈکٹس اور فوڈ پروسیسنگ کی صنعتیں اس فیصلے سے بری طرح متاثر ہو سکتیں، جبکہ امریکہ میں بھی عام صارفین اور ریٹیلرز کے لیے ان اشیاء کی دستیابی اور قیمتیں ایک چیلنج بن جاتیں۔ جیسے کہ ٹرمپ کی ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو سنگین نتائج کی دھمکی نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے، اسی طرح یہ تجارتی پالیسی بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

سفارتی کوششیں اور مستقبل کا لائحہ عمل

صدر ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی اس تین روزہ عارضی مہلت کو دونوں ممالک کے سفارتی اور تجارتی مذاکرات کاروں کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مہلت کے دوران واشنگٹن اور اوٹاوا کے اعلیٰ حکام کے درمیان سرحد پار تجارت، دوطرفہ ٹیکسز اور سپلائی چین کو ہموار رکھنے کے حوالے سے سخت اور تفصیلی بات چیت جاری ہے تاکہ کسی بڑے معاشی تصادم سے بچا جا سکے۔ شام کے وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے، اسحاق ڈار نے استقبال کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سفارت کاری اپنی جگہ اہم ہے مگر امریکہ اور کینیڈا کے مابین یہ کشیدگی مغربی معیشتوں کے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی تجارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدام صدر ٹرمپ کی اس جارحانہ تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ امریکی معشت کے تحفظ اور مقامی صنعتوں کو ترجیح دینے کے لیے اپنے قریبی حلیفوں پر بھی دباؤ ڈالنے سے گریز نہیں کرتے۔ اب تمام تر نظریں آنے والے تین دنوں پر ٹکی ہیں کہ آیا دونوں ممالک کسی باہمی معاشی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر تین دن کی اس مہلت کا وقت ختم ہونے کے بعد نجی ٹیرف کی یہ معاشی تلوار ایک بار پھر کینیڈین مصنوعات پر لٹک جائے گی۔

ٹیگز: #امریکہ #تجارتی جنگ #ڈونلڈ ٹرمپ #کینیڈا #معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں