ای سی او ریجن میں تجارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا، عاطف اکرام شیخ

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر اور ای سی او چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ECO-CCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے زور دیا ہے کہ ای سی او ریجن کی وسیع اقتصادی صلاحیت کو باہمی رابطوں، تجارتی سہولت کاری اور نجی شعبے کے تعاون کے ذریعے ٹھوس تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع میں تبدیل کیا جائے۔ ای سی او سی سی آئی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں تمام رکن ممالک کی قومی چیمبرز کے نمائندوں نے شرکت کی، عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ خطے کے اسٹریٹجک محل وقوع، وافر وسائل اور 50 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل مارکیٹ کے باوجود، باہمی تجارت اپنی اصل صلاحیت سے کافی کم ہے۔ قومی قرضے اور عوام کا مستقبل: معاشی چیلنجز اور پائیدار حل کے تناظر میں انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مذاکرات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے، کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانے، کاروباری نقل و حرکت میں بہتری اور ای سی او ٹرین سمیت روڈ اور ریل رابطوں کی بحالی پر زور دیا۔ عاطف اکرام شیخ نے تجویز دی کہ ای سی او سی سی آئی کو 2026-27 کے لیے ایک عملی ایکشن ایجنڈا تیار کرنا چاہیے جس میں پیش رفت کی نگرانی کے لیے واضح میکانزم موجود ہو۔
مشترکہ پیداوار اور علاقائی ویلیو چینز پر توجہ

عاطف اکرام شیخ نے روایتی تجارت سے آگے بڑھ کر مشترکہ پیداوار اور علاقائی ویلیو چینز کی اہمیت اجاگر کی۔ خاص طور پر زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، معدنیات، توانائی، انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایس ایم ایز، سرمایہ کاری کی سہولت کاری، خواتین انٹرپرینیورشپ، سیاحت اور باقاعدگی سے ای سی او تجارتی نمائشوں کے انعقاد کی بھی تجویز دی۔

ای سی او سیکرٹری جنرل کے خیالات

ای سی او کے سیکرٹری جنرل، سفیر اسد مجید خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں، کسٹمز اور لاجسٹک مسائل کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت متاثر ہے۔ انہوں نے ای سی او ٹا (ECOTA) اور کسٹمز تعاون کے حوالے سے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی اور نجی شعبے کے مابین رابطوں کو بڑھانے پر زور دیا۔ اس موقع پر افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان کے قومی چیمبرز کے نمائندوں نے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں شرکاء نے سیکٹر کے لحاظ سے بی ٹو بی (B2B) میٹنگز اور ویزا کی سہولت کاری کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔
