ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی مارکیٹ 17 ارب ڈالر سے زائد

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرپرسن اعجاز الرحمان نے کہا ہے کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی مارکیٹ کا حجم 17 ارب ڈالر سے زائد ہے، حکومتی معاونت اور موثر حکمت عملی کے ذریعے پاکستانی مینو فیکچررز اور برآمد کنندگان عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ مزید بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ رواں سال اکتوبر میں پاکستان میں منعقد ہونے والی 42ویں عالمی نمائش میں مختلف ممالک سے بڑے درآمد کنندگان کی شرکت اور برآمدی معاہدے ہاتھ سے بنے قالینوں کی مقامی صنعت کے لیے تقویت کا باعث بنیں گے۔
عالمی نمائش سے برآمدات میں فروغ کا امکان
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے عالمی نمائش کے انعقاد کا تجربہ حاصل ہے اور ایسوسی ایشن اسے ایک باقاعدہ، فعال اور صنعت دوست پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کے لیے موثر کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائش میں سٹالز، ڈسپلے ایریاز اور نمائش ہالز کے لیے فلورنگ سمیت اعلی معیار اور دیدہ زیب ڈیزائنوں سے مزین قالینوں کی وسیع رینج دستیاب ہوگی۔ اعجاز الرحمان نے کہا کہ عالمی نمائش کا بنیادی مقصد ہاتھ سے بنے قالینوں کی تیاری سے وابستہ شعبوں کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، جدید معلومات اور تجربات کے تبادلے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور ملکی و غیر ملکی کاروباری روابط کو فروغ دینا ہے۔ نمائش کے ذریعے پاکستانی قالین سازوں اور برآمد کنندگان کو نئی منڈیوں تک رسائی، نئے کاروباری روابط، بی ٹو بی ملاقاتوں اور منافع بخش کاروباری مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کی ضرورت
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر قالین سازی اور اس کی برآمدات کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے، تاہم عالمی مارکیٹ میں مسابقت بڑھنے کے پیش نظر صنعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور برآمدات میں اضافے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں، رانا ثناء اللہ جیسے بیانات کے برعکس، ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ایسی صنعتی نمائشیں ناگزیر ہیں۔ اعجاز الرحمان نے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کی رہنمائی میں عالمی نمائش کے منتظمین کی جانب سے بہترین تیاریاں جاری ہیں اور قوی امید ہے کہ مذکورہ ایونٹ سے صنعت کی ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تین روزہ عالمی نمائش میں شرکاء کے سوالات کے جوابات، پیشہ ورانہ رہنمائی، معلومات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا جبکہ تکنیکی، پیشہ ورانہ اور عمومی معلومات کی فراہمی کے لیے موثر انتظامات کیے جائیں گے۔
