این ڈی ایم اے کا 13 سے 15 اگست بارشوں اور سیلاب کا الرٹ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے 13 سے 15 اگست کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں، ممکنہ طغیانی، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں سیلابی کیفیت کے شدید خطرات کے پیش نظر ایک اہم ترین الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پاکستان میں پہلی قومی پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کا اجرا کے تناظر میں حکومتی ادارے اب موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ مستعد دکھائی دے رہے ہیں۔
مون سون کا نیا سلسلہ اور موسمیاتی خدشات
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کے ایک اور شدید اور مضبوط درجے کے ہوا کے کم دباؤ کے ملک میں داخل ہونے کے باعث پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ انتہائی تیز اور موسلا دھار بارشوں کا قوی امکان ہے، جس کی وجہ سے نچلے علاقوں میں پانی بھرنے اور پہاڑی مقامات پر سڑکیں بلاک ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ
این ڈی ایم اے کے الرٹ میں خاص طور پر بالائی اور وسطی پنجاب، بشمول راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرانوالہ، لاہور اور سیالکوٹ کے شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ ان علاقوں میں قلیل مدتی شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ یعنی شہروں میں پانی جمع ہونے کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں اچانک طغیانی اور ندیوں کے بہاؤ میں انتہائی تیز اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
انتظامیہ اور سیاحوں کے لیے ہدایات
پہاڑی شاہراہوں اور سیاحتی مقامات پر سفر کرنے والے مسافروں اور مقامی آبادی کو لینڈ سلائیڈنگ اور چٹانیں کھسکنے کے خطرناک رجحان سے خبردار کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی حادثے سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔ حکام نے تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز)، بالائی اضلاع کی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور متعلقہ سروسز کے اداروں کو ہمہ وقت الرٹ رہنے اور ہنگامی بنیادوں پر ہیوی مشینری کا انتظام رکھنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اگر کہیں لینڈ سلائیڈنگ یا سڑکوں کی بندش کا واقعہ پیش آئے تو راستوں کو فوری طور پر بحال کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے ایس آئی ایف سی کو کاروباری آسانیوں کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات کا مینڈیٹ دے دیا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں بھی اقتصادی سرگرمیوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔
عوامی احتیاطی تدابیر
این ڈی ایم اے نے متعلقہ محکموں کو پانی کے نکاس کے راستوں کو مکمل طور پر صاف اور بلاک شدہ حصوں کو کشادہ رکھنے کی تاکید کی ہے تاکہ شہری آبادی کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔ ادارے نے عام شہریوں، خاص طور پر سیاحوں اور مسافروں کے لیے بھی خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ 13 سے 15 اگست کی اس الرٹ کے دوران غیر ضروری سفر بالخصوص پہاڑی علاقوں کے سفر سے گریز کریں۔ مزید برآں پاکستانی قوم 79 واں جشن آزادی تجدید عہد کے ساتھ منائے گی، تاہم ان موسمیاتی حالات کے پیش نظر احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ ندی نالوں، بارش کی نالیوں اور برفیلی یا کچی پہاڑی ڈھلوانوں کے قریب جانے سے سخت پرہیز کریں۔ کچے مکانات اور پانی کے بہاؤ کے قریبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو پہلے سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے یا اپنے قیمتی سامان کو اونچائی پر منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے سرکاری ذرائع پر گہری نظر رکھیں اور ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر مقامی انتظامیہ سے رابطہ قائم کریں۔
