مکہ معاہدہ اور مصر: قاہرہ کی متوازن سفارت کاری کیوں اہم ہے؟

قاہرہ (نمائندہ خصوصی)۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات کسی ملک کا کسی معاہدے میں شامل ہونا جتنا اہم ہوتا ہے، اتنا ہی اہم اس کا کسی اتحاد سے فاصلہ برقرار رکھنا بھی ہوتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں نئی سفارتی صف بندی پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ بھارت نے بھی اس پیش رفت کے قومی سلامتی اور علاقائی استحکام پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔
مصر کا غیر جانبدارانہ کردار اور سفارتی حکمت عملی
اس تناظر میں مصر کا ممکنہ طور پر اس معاہدے کا حصہ نہ بننا ایک اہم سفارتی پہلو ہے۔ اگر قاہرہ اس اتحاد میں شامل بھی ہوجاتا تو غالب امکان یہی ہے کہ مصر اور بھارت کے دیرینہ تعلقات فوری طور پر کسی بڑے نقصان سے دوچار نہ ہوتے، تاہم نئی دہلی کے لیے یہ ایک سیاسی اشارہ ضرور ہوتا۔ بین الاقوامی تعلقات میں ایسے اشارے بعض اوقات عملی فیصلوں سے زیادہ اہمیت اختیار کرلیتے ہیں۔ یاد رہے کہ موجودہ بدلتے حالات میں سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ معاشی تعلقات کا فروغ ناگزیر ہے، اور مصر اسی توازن کو مدنظر رکھ رہا ہے۔
تاریخی تعلقات اور مستقبل کی ترجیحات
مصر اور بھارت کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک نے غیر جانبدار تحریک کے دور میں عالمی سیاست میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کیا اور بعد ازاں اقتصادی، دفاعی، توانائی اور سفارتی شعبوں میں روابط کو وسعت دی۔ یہی وجہ ہے کہ قاہرہ اپنی مشرق وسطیٰ کی ترجیحات طے کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مصر نے 2026 میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ علاقائی سفارتی رابطوں سے خود کو الگ نہیں رکھا۔ جون 2026 میں قاہرہ نے انہی چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس کی میزبانی کی، جس میں علاقائی استحکام، کشیدگی میں کمی، امن اور اقتصادی خوشحالی کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر خطے میں کسی ایک سخت عسکری بلاک کا حصہ بننے کے بجائے مختلف ممالک کے ساتھ بیک وقت سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی پالیسی کو ترجیح دے رہا ہے۔ جغرافیائی اہمیت اور علاقائی تعاون یہ حکمت عملی قاہرہ کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ مصر مشرق وسطیٰ، افریقہ اور بحیرہ روم کے درمیان ایک غیر معمولی جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔ سوئز کینال، عرب دنیا میں اس کا سیاسی وزن اور فلسطین کے معاملے میں اس کا کردار اسے ایسی خارجہ پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے جس میں مختلف طاقتوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنا ضروری ہے۔ مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پہلے ہی متعدد علاقائی معاملات پر مشترکہ سفارتی مؤقف اختیار کرچکے ہیں۔ اپریل 2026 میں ان ممالک سمیت آٹھ ملکوں نے القدس اور مسجد اقصیٰ سے متعلق مشترکہ بیان بھی جاری کیا تھا، جو ان کے بڑھتے ہوئے سفارتی رابطوں کی عکاسی کرتا ہے۔
سفارتی توازن اور خارجہ پالیسی
میری رائے میں اگر مصر مکہ دفاعی معاہدے سے باہر رہتا ہے تو اسے کسی فریق سے دوری کے بجائے متوازن سفارت کاری کی علامت سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ قاہرہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ علاقائی تعاون جاری رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ اپنے تاریخی اور معاشی تعلقات بھی محفوظ رکھ سکتا ہے۔ آج کی دنیا میں کامیاب خارجہ پالیسی کا مطلب لازماً کسی ایک اتحاد کا حصہ بننا نہیں بلکہ مختلف طاقتوں کے درمیان اپنے قومی مفادات، معاشی ترجیحات اور سفارتی آزادی کو برقرار رکھنا ہے۔ مصر کی اصل طاقت شاید یہی توازن ہے، اور یہی پالیسی اسے آنے والے برسوں میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صف بندی میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان اور بیلاروس کا زرعی تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا، اسی طرح مصر بھی اپنی معاشی ترجیحات کے مطابق عالمی شراکت داریوں کو فروغ دے رہا ہے۔ مزید برآں، عالمی سطح پر جاری حالیہ پیش رفت کے پیش نظر، جیسے ماسکو میں پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی کی تقریب، پاک روس تعلقات میں پیش رفت اجاگر ہوئی، یہ واضح ہے کہ سفارتی تنوع ہی وقت کا تقاضا ہے۔
