گوتم اڈانی کیس: امریکی عدالت کی محکمہ انصاف پر شدید تنقید

نیویارک / واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) — امریکی ریاست نیویارک کی وفاقی عدالت کے ڈسٹرکٹ جج نکولس گاروفس (Judge Nicholas Garaufis) نے بھارتی صنعت کار گوتم اڈانی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف رشوت ستانی کا مقدمہ ختم کرنے کی امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کی درخواست منظور کر لی ہے۔ تاہم، عدالت نے کیس واپس لینے کے طریقہ کار اور اعلیٰ حکام کے طرزِ عمل پر شدید تحفظات اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔
47 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں جج نکولس گاروفس نے محکمہ انصاف کے سینئر اہلکار ٹرینٹ میکوٹر (Trent McCotter) کی کارروائی کو ”انتہائی غیر معمولی“ (Highly Unusual) قرار دیا۔ جج نے ریمارکس دیے کہ بظاہر میکوٹر نے اس معاملے میں اپنی ذاتی رائے کو ان تفتیش کاروں اور حکام کی رائے پر ترجیح دی جو براہِ راست تحقیقات کا حصہ تھے۔
کیس کا پس منظر
نومبر 2024 میں، امریکی پراسیکیوٹرز نے گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر حکام پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بھارت میں شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو 250 ملین ڈالر سے زائد کی رشوت دی اور امریکی سرمایہ کاروں سے حقائق چھپائے۔ یہ تنازعہ عالمی منڈیوں میں ایک اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی زری پالیسی رپورٹ جاری کردی کی طرح مالیاتی حلقوں میں بحث کا مرکز بنا رہا۔ تاہم مئی 2026 میں، امریکی محکمہ انصاف نے اچانک مقدمہ واپس لینے کا اعلان کیا، جس پر وفاقی عدالت نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت اور اڈانی گروپ سے تحریری جواب طلب کیا۔
عدالتی فیصلے کے اہم نکات
عدالت نے محکمہ انصاف کے اندرونی طریقہ کار اور فیصلوں میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی:
تفتیشی ایجنسیوں کی نظر اندازیاں: فیصلے کے مطابق ٹرینٹ میکوٹر نے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) اور کیس پر کام کرنے والے تجربہ کار پراسیکیوٹرز کی پیشہ ورانہ آراء کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیا۔ جیسا کہ ہائیکورٹس میں ججوں کی تقرری کا معاملہ طے، صدر نے منظوری دے دی ہے، عدالتی و قانونی عمل میں شفافیت کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔
دفاعی وکلاء کے ساتھ گٹھ جوڑ کا تاثر: جج نے نوٹ کیا کہ سرکاری حکام نے اپنے ہی محکمے یا ایجنسیوں سے مشاورت کرنے کے بجائے بنیادی طور پر اڈانی کے وکلاء کے ساتھ مل کر کیس ختم کرنے کا مسودہ تیار کیا۔ یہ عمل شام میں خفیہ جوہری مقام سے مواد ہٹانے کا معاہدہ، امریکا کی ثالثی میں پیش رفت جیسی بین الاقوامی سفارتی پیچیدگیوں کی طرح حساس نوعیت کا حامل ہے۔
عدالت کے محدود اختیارات: جج گاروفس نے کہا کہ امریکی قانون کے تحت وفاقی عدالت کے پاس حکومت کو کارروائی جاری رکھنے پر مجبور کرنے کے اختیارات محدود ہیں، لیکن اس قسم کی بے قاعدگیوں پر تحفظات کا اظہار کرنا انتہائی ضروری ہے۔
اڈانی گروپ کا ردِعمل
مقدمہ ختم ہونے کے فیصلے کے بعد گوتم اڈانی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی عدالتی نظام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا قانون کی حکمرانی اور انصاف پر کامل یقین ہے۔ اڈانی گروپ کا کہنا تھا کہ تمام الزامات بے بنیاد تھے اور یہ فیصلہ ان کی سچائی کا ثبوت ہے۔
عالمی قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ اس فیصلے سے اڈانی گروپ کو بڑی قانونی اور کاروباری راحت ملی ہے، لیکن امریکی جج کے تلخ ریمارکس نے کیس واپس لینے کے پیچھے انتظامی اثر و رسوخ اور فیصلے سازی کے شفاف ہونے پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
