مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,843 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,843
بزنس

آرگینک زراعت کو فروغ دے کر برآمدات میں اضافہ ممکن ہے

📅 اتوار، 09 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
آرگینک زراعت کو فروغ دے کر برآمدات میں اضافہ ممکن ہے
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آرگینک زراعت اور خوراک پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نام لکھے گئے ایک اہم کھلے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ آرگینک زراعت کے شعبے میں کامیاب ممالک کے ماڈلز کا تفصیلی جائزہ لے کر پاکستان میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیے جائیں۔

عالمی منڈی میں پاکستان کے لیے مواقع

نجم مزاری نے کہا کہ عالمی آرگینک خوراک کی مارکیٹ کا حجم 2024 میں 240 سے 250 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس میں ہر سال مثبت گروتھ دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پاکستان جدید سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی اور بین الاقوامی معیار کے اصولوں کو اپنائے تو عالمی منڈی میں نمایاں حصہ حاصل کر کے اپنی برآمدات میں اربوں ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں زراعت کی ترقی کے لیے معدنی ذخائر نئی ٹیکنالوجی، برآمدات میں تنوع اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کر سکتے ہیں، سیف الرحمن جیسے اقدامات پہلے ہی زیر بحث ہیں، تاہم آرگینک زراعت اس میں ایک نیا اور منافع بخش باب بن سکتی ہے۔

برآمدی فہرست میں تنوع کی ضرورت

اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کی برآمدات کا زیادہ تر انحصار ٹیکسٹائل اور گارمنٹس پر ہے، جبکہ آرگینک زرعی مصنوعات ہماری برآمدی فہرست میں ایک بڑا اور مثبت اضافہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں آرگینک باسمتی چاول، آم، کینو، کھجور، سبزیاں، مصالحہ جات، شہد، دالیں، جڑی بوٹیاں اور گوشت عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معیار کی سرٹیفکیشن اور ٹریس ایبلٹی سسٹم کے ذریعے یورپ، مشرق وسطیٰ اور دیگر بڑی منڈیوں تک رسائی انتہائی آسان بنائی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں بندرگاہوں کو خصوصی اقتصادی زونز، سڑکوں، ریلوے اور گوداموں سے منسلک کیا جائے، افتخار علی ملک کا مطالبہ بھی ملکی برآمدات کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

ماحولیاتی اثرات اور حکومتی پالیسی

نجم مزاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آرگینک شعبے کو قومی برآمدی حکمت عملی کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے تاکہ کثیر زرِ مبادلہ کے حصول اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آرگینک زراعت کے فروغ سے کیمیائی کھادوں اور مضر صحت زرعی ادویات کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے ماحول اور انسانی صحت پر گہرے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جامعات، زرعی تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے پاکستان کو آرگینک زرعی مصنوعات کا ایک اہم عالمی برآمدی مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ ملک کی زرعی ترقی کے لیے جنگلات کو بچایا اور فروغ نہ دیا گیا تو موسمیاتی بحران شدت اختیار کر جائے گا، میاں کاشف اشفاق کی تنبیہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے پائیدار زراعت کی طرف قدم بڑھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

ٹیگز: #آرگینک زراعت #زرعی برآمدات #سرٹیفکیشن #معیشت پاکستان #نجم مزاری
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں