رپورٹ: سنگاپور اور امریکہ کے بعد اب یورپی ممالک نے بھی لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کی فروخت کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ 2026 میں یہ صنعت اربوں ڈالر کی مالیت اختیار کر چکی ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہ کار ناصرف جانوروں کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ تاہم، اسلامی ممالک میں “حلال” سرٹیفیکیشن کے حوالے سے اس پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا لیبارٹری میں تیار کردہ خلیات سے بننے والا گوشت شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں۔

