رپورٹ: مارچ 2026 کے وسط تک عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح (2800 ڈالر فی اونس) کو چھو رہی ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں افراطِ زر (Inflation) کے دباؤ اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محفوظ پناہ گاہ کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ اس رجحان سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ عالمی تجارت اب روایتی کرنسیوں کے بجائے “کمپوزٹ کرنسی” یا ڈیجیٹل گولڈ کی طرف منتقل ہو سکتی ہے، جو کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے برآمدات کے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔

